جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرانے کی درخواست منظور

datetime 18  جون‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)عدالت نے معروف اینکر ڈاکٹرعامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ۔ ہفتہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیرحسین میمن کی عدالت میں معروف اینکر ڈاکٹرعامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کرانے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹرعامرلیاقت کے ورثا کے عدالت میں پیش ہونے اور فریقین کے دلائل سننے

کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا۔اس سے قبل دوران سماعت سرکاری وکیل سجاد علی دشتی اورایس ایچ او بریگیڈ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔سرکاری وکیل سجاد علی دشتی نے عدالت کے سامنے موقف پیش کیا کہ ورثا پوسٹ مارٹم کرانا نہیں چاہتے، ورثا کہتے ہیں پوسٹ مارٹم کرانے سے ان کے والد صاحب کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ورثا کے مطابق عامر لیاقت کو قتل نہیں کیا گیا، کسی پرشک بھی نہیں ہے جب کہ پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس سرجن کے مطابق جب تک جسم کا اندرونی جائزہ نہیں لیتے موت کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکتیں۔درخواست گزار عبدالاحد کے وکیل ارسلان راجہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ عامر لیاقت کی اچانک پراسرار موت ہوئی ہے اور معروف ٹی وی ہوسٹ اور سیاست دان تھے۔بیرسٹر ارسلان راجہ نے کہاکہ عامر لیاقت کی اچانک موت سے ان کے مداحوں میں شکوک و شبہات ہیں اور شبہ ہے کہ عامر لیاقت کو جائیداد کے تنازع پر قتل کیا گیا ہے اور ان کے پوسٹ مارٹم کیلئے خصوصی بورڈ تشکیل دیا جائے۔خیال رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پوسٹ مارٹم کی درخواست شہری عبد الاحد نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عامر لیاقت کی موت پر شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔گذشتہ سماعت میں ڈاکٹرعامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کے لیے دائر درخواست پر ورثا کو بذریعہ پولیس نوٹسزجاری کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے ڈاکٹرعامر لیاقت کے ورثا کو ہفتے کی صبح 9 بجے تک جواب طلب کیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…