جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرانے کی درخواست منظور

datetime 18  جون‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)عدالت نے معروف اینکر ڈاکٹرعامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ۔ ہفتہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیرحسین میمن کی عدالت میں معروف اینکر ڈاکٹرعامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کرانے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹرعامرلیاقت کے ورثا کے عدالت میں پیش ہونے اور فریقین کے دلائل سننے

کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا۔اس سے قبل دوران سماعت سرکاری وکیل سجاد علی دشتی اورایس ایچ او بریگیڈ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔سرکاری وکیل سجاد علی دشتی نے عدالت کے سامنے موقف پیش کیا کہ ورثا پوسٹ مارٹم کرانا نہیں چاہتے، ورثا کہتے ہیں پوسٹ مارٹم کرانے سے ان کے والد صاحب کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ورثا کے مطابق عامر لیاقت کو قتل نہیں کیا گیا، کسی پرشک بھی نہیں ہے جب کہ پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس سرجن کے مطابق جب تک جسم کا اندرونی جائزہ نہیں لیتے موت کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکتیں۔درخواست گزار عبدالاحد کے وکیل ارسلان راجہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ عامر لیاقت کی اچانک پراسرار موت ہوئی ہے اور معروف ٹی وی ہوسٹ اور سیاست دان تھے۔بیرسٹر ارسلان راجہ نے کہاکہ عامر لیاقت کی اچانک موت سے ان کے مداحوں میں شکوک و شبہات ہیں اور شبہ ہے کہ عامر لیاقت کو جائیداد کے تنازع پر قتل کیا گیا ہے اور ان کے پوسٹ مارٹم کیلئے خصوصی بورڈ تشکیل دیا جائے۔خیال رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پوسٹ مارٹم کی درخواست شہری عبد الاحد نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عامر لیاقت کی موت پر شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔گذشتہ سماعت میں ڈاکٹرعامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کے لیے دائر درخواست پر ورثا کو بذریعہ پولیس نوٹسزجاری کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے ڈاکٹرعامر لیاقت کے ورثا کو ہفتے کی صبح 9 بجے تک جواب طلب کیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…