اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

روس نے پاکستان کو سستا تیل بیچنے سے انکار کر دیا

datetime 15  جون‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن)وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے سستا تیل دینے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے 2015 کے گیس پائپ لائن معاہدے کو بہانہ بنایا ہے، سال 2015 میں پاکستان نے گیس پائپ لائن کا معاہدہ نہیں کیا تھا۔نجی ٹی وی ٹوئنٹی فور کے مطابق جس کی وجہ سے انہوں نے مزید بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 30 فیصد کم قیمت پر تیل ملے گا تو وہ ضرور خریدیں گے۔ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر خان صاحب کو سستا تیل مل رہا تھا تو انہوں نے کیوں نہ خریدا؟ وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ روس انہیں تیل بیچنے کے موڈ میں نہیں لیکن وہ گندم خریداری پر بات کررہے ہیں۔ جس کی منظوری کابینہ اور وزیراعظم دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو ٹھیک کرنا ہے۔ اس لیے ابھی کسی اور جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ڈالر کی قیمت ضرور بڑھی ہے اور وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے اور آئندہ چند روز میں معاہدہ طے پاجائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی صورت پیٹرول کو خسارے پر نہیں بیچیں گے۔خیال رہے کہ سستے تیل کی تلاش کی مہم میں پاکستانی وفد روس پہنچ گیا ۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی صنعت کاروں،تاجروں اورحکومتی نمائندوں کا وفدروس پہنچا ہے ، وفد سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک سمٹ میں شرکت کرے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق اس اجلاس میں روسی صدر پوٹن بھی شریک ہوں گے۔ذرائع کےمطابق یہ وفد پرائیویٹ پارٹیز کی سطح پرروس سے سستا تیل خریدنے کے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ واضح رہے کہ عمران خان کئی بار یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ وہ روس سے سستا تیل خریدنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے امریکا نے ان کیخلاف سازش کرکے انہیں حکومت سے نکالا۔

روس جو دنیا بھر میں سستی گیس اور تیل فراہم کررہا ہے یورپ کے کئی ممالک روس سے سستی گیس خرید رہے ہیں ۔بھارت بھی روس سے تقریبا 30فیصد سستا تیل خرید رہا ہے جبکہ سری لنکا نے بھی حال ہی میں روس سے تیل کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی وفد بھی روس اس لئے گیا ہے کہ تاکہ وہ روس سے سستے تیل کے حوالے سے جائزہ لے سکے اور خریداری کا بندوبست کرسکے ۔ دوسری جانب روس نے سستا تیل بیچ کر 93 بلین ڈالر کمالئے۔ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر نظر رکھنے والے ادارے کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ

امریکی پابندیوں کے باوجود روس سے پیٹرول خریدنے والوں میں امریکی حلیف اور یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں کے دوران روس کی پیٹرولیم مصنوعات ک برآمدات 93 ارب ڈالر تک رہی

اور سب سے زیادہ پیٹرول یورپی یونین کے رکن ممالک نے خریدا۔امریکی دباو کے باوجود چین نے بھی بھاری مقدار میں پیٹرول روس سے خریدا ہے اسی طرح بھارت نے بھی روس سے سستے داموں پیٹرول درآمد کیا ہے جس پر امریکا نے بھارت کو تنبیہ بھی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…