بدھ‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2025 

سوچنے میں وقت لگا کہ عام آدمی پر بوجھ کو کیسے روکا جاسکتا ہے ٗ مصدق ملک کی صفائیاں

datetime 4  جون‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کاکہنا ہےکہ حکومت کو ایک دو ہفتے سوچنے میں لگے کہ عام آدمی پر بوجھ کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے پیٹرولیم سبسڈی ختم کرنے کے فیصلے میں تاخیر اور خزانے کو 150 ارب روپے کا نقصان ہونے سے متعلق سوال پر کہا

کہ حکومت کو ایک دو ہفتے سوچنے میں لگے کہ عام آدمی پر بوجھ کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔اس سے قبل جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو دو تین اسکیمیں بتائی گئیں جس کی وجہ سے فیصلہ سازی میں کچھ وقت لگا۔علاوہ ازیں مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت ہر 6 میں سے 4 خاندانوں کی آمدنی 37 ہزار روپے سے کم ہے۔ ہر غریب خاندان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے 2 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔40 ہزار روپے تک کی آمدنی والے غریب افراد کو سہولت دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے یہ رقم خرچ کر سکے۔وزیر مملکت نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر عمران خان کا معاہدہ آج بھی موجود ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی جتنی قیمتیں بڑھانی تھیں وہ بڑھا دی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق حکومت ختم ہونے سے کچھ دن قبل اس وقت کے وزیر توانائی نے ایک خط تحریر کیا تھا جس میں روس سے تجارت کے فروغ اور پیٹرولیم کے شعبے میں تجارت کی درخواست کی گئی تھی لیکن اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان نہ کوئی معاہدہ ہے اور نہ ہی کسی مفاہمت کی یادداشت پردستخط ہوئے ہیں۔

اگر 30 فیصد سستا تیل مل رہا تھا تو پی ایس او کے ٹینڈر میں کیوں نہ آتا؟انہوں نے کہا کہ نہ تو اس وقت کے وزیر توانائی کے خط کا کوئی جواب روس سے آیا اور نہ ہمارے سفیر نے جب روس کے وزیر توانائی سے ملاقات کی تو انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب دیا۔

موضوعات:



کالم



یوٹیوبرز کے ہاتھوں یرغمالی پارٹی


عمران خان اور ریاست کے درمیان دوریاں ختم کرنے…

بل فائیٹنگ

مجھے ایک بار سپین میں بل فائٹنگ دیکھنے کا اتفاق…

زلزلے کیوں آتے ہیں

جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…