ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

سندھ میں رواں سال بھی ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹوتی کی روایت برقرار

datetime 19  مئی‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے رواں مالی سال 2021-22 کے ترقیاتی بجٹ میں 90 ارب روپے سے زائد اور غیر ترقیاتی اخراجات میں 30 ارب روپے سے زائد کٹوتی متوقع ہے۔ اس کا ایک سبب وفاق سے ملنے والی رقم میں کمی بھی ہے۔محکمہ خزانہ سندھ کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے کل 329 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ

میں اب تک 227 ارب جاری ہو سکے ہیں ، جس میں سے صرف 110.594 ارب (تقریبا 34 فیصد)خرچ ہو سکے ہیں۔گذشتہ کئی ہفتوں سے نیا ترقیاتی بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ ان اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مالی سال کے اختتام پر نظرثانی شدہ ترقیاتی بجٹ 90 ارب روپے کم ہو گا۔ سب سے زیادہ کٹوتی صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام(اے ڈی پی)میں متوقع ہے۔ 252 ارب روپے کے اے ڈی پی میں اب تک 168 ارب روپے جاری کے گئے ہیں اور صرف 106 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔اے ڈی پی میں 80 ارب روپے سے زائد کٹوتی متوقع ہے۔رواں سال سب سے کم رقم نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے جاری کی گئی ہے ۔ 670 نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص 84 ارب روپے میں سے صرف 29 ارب روپے جاری کیے گئے اور اب تک صرف 14 فیصد اخراجات ہوئے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے رواں سال سندھ کو وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 5 ارب روپے کی بجائے 12 ارب روپے اب تک جاری کیے ۔+

یعنی 7 ارب روپے زیادہ جاری کیے گئے۔رواں مالی سال کے دوران سندھ کے 10 کھرب 89 ارب روپے کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 31 ارب روپے کی معمولی کمی کی گئی ہے۔غیر معمولی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ 43 ارب روپے کی کٹوتی تنخواہوں کے بجٹ میں کی گئی ہے ۔ تنخواہوں کے لیے مختص بجٹ 6 کھرب 25 ارب روپے تھا ، جسے کم کرکے 5 کھرب 82 ارب روپے کر دیا گیا۔

حکومت سندھ کے ذرائع نے بتایاکہ رواں مالی سال کے دوران ہزاروں خالی اسامیاں پر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہ اسامیاں پر نہیں کی گئیں۔ لاکھوں نوجوانوں سے کئی سالوں کی طرح اس سال بھی درخواستیں وصول کی گئیں لیکن بھرتیاں نہیں کی گئیں ۔ اس لئے تنخواہوں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے لیکن نان سیلری بجٹ میں 13 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے مختص 4 کھرب 64 ارب روپے کے بجٹ کو بڑھا کر 4 کھرب 74 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔نان سیلری بجٹ میں سب سے زیادہ رقم 2 کھرب 52 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو گی ۔ جو کل بجٹ کا 20 فیصد ہے۔ہر سال کی طرح رواں مالی سال کے دوران بھی حکومت سندھ ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹوتی کرنے کی روایت نہیں توڑ سکی اور قرضوں کی ادائیگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…