جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

سری لنکن شہری کا قتل ،عدالت نے 6 مجرمان کو سزائے موت سزا سنا دی

datetime 18  اپریل‬‮  2022 |

لاہور(این این آئی)انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا قتل کیس کا فیصلہ سنادیا،عدالت نے مقدمے میں نامزد 6 افراد کو سزائے موت،7 کو عمر قید اور76 افراد کو 2،2 سال قید کی سزا سنائی۔انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت گوجرانوالہ کی

جج نتاشہ نسیم نے کوٹ لکھپت جیل میں فیصلہ سنایا۔سینئر سپیشل پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو کی سربراہی میں پانچ رکنی پراسیکیوشن ٹیم نے ٹرائل مکمل کرایا۔انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے کیس کا ٹرائل کوٹ لکھپت جیل میں مکمل کیا اور کیس کا فیصلہ سنایا۔پراسیکیوشن نے 46 چشم دید گواہوں کو چالان کا حصہ بنایا، 10 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج چالان کا حصہ تھی، 55 ملزمان کے موبائل فون سے ملنے والی ویڈیوز بھی ریکارڈ کا حصہ تھیں، پراسیکیوشن نے 89 ملزمان کیخلاف چالان جمع کروایا، چالان کے مطابق 80 ملزمان بالغ اور 9 نابالغ ہیں۔ملزمان پر فرد جرم 12 مارچ کو عائد کی گئی تھی، عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر تیز ترین ٹرائل کرتے ہوئے ایک ماہ میں ٹرائل مکمل کیا۔گزشتہ سال دسمبر میں سیالکوٹ وزیرآباد روڈ پر واقع نجی فیکٹری کے سری لنکن جنرل مینیجر پریانتھا کمارا فیکٹری ملازمین نے توہین مذہب کا الزام لگا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا اور پھر لاش کو نذر آتش کردیا تھا۔بعد ازاں پولیس نے کیس میں متعدد ملزمان کو گرفتار کیا اور ابتدائی چالان میں 85 ملزمان کونامزد کیا جبکہ 10 سے 12 مرکزی ملزمان قرار دیئے گئے تھے، مرکزی ملزمان میں متعدد فیکٹری کے ملازمین شامل ہیں۔جنوری میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے پریانتھا کماراقتل کیس کے پہلے ملزم کو ایک سال قید اور10 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنادی، عدنان نامی ملزم نے سری لنکن شہری کے قتل کو درست قرار دے کر سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کی تھی۔فروری کے مہینے میں سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کو قتل کرنے اور جلانے کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی اور اس وقت کی پنجاب حکومت نے مقدمے کا ٹرائل لاہور میں ہی کوٹ لکھپت جیل کے اندر کرنے کا فیصلہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…