بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان نے ایک ایم این اے کو کہا 3 سال اُن کی مان کر ناکام ہوا ہوں، پرویز الٰہی

datetime 16  مارچ‬‮  2022 |

لاہور(مانیٹرنگ، این این آئی)اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے گزشتہ روز انٹرویو میں دئیے گئے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہاہے کہ ہم اتحادی ہیں اور الگ جماعت ہیں، جماعتوں کے اندر مختلف آراء ہوتی ہیں، وزیراعظم عمران خان ایماندار اور ان کی نیت بھی اچھی ہے، ہم نے حکومت چھوڑی ہے اور نہ ہی اپوزیشن جوائن کی ہے۔پرویز الٰہی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم اتحادی ہیں

اور الگ جماعت ہیں، جماعتوں کے اندر مختلف آراء ہوتی ہیں اور فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ایماندار اور ان کی نیت بھی اچھی ہے، ہم نے حکومت چھوڑی ہے اور نہ ہی اپوزیشن جوائن کی ہے۔پرویز الٰہی نے کہا کہ حکومت کا حصہ ہیں اور ہر مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا ہے، عوامی مسائل کی نشاندہی آج نہیں کی پہلے دن سے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہ اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے چلا جائے تو حکومت کا اپنا فائدہ ہے۔واضح رہے کہ پرویز الٰہی نے گزشتہ روز صحافی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ابھی بہت سے سرپرائز آنے ہیں، حکومت کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ کون ان کے ساتھ ہے اور کون نہیں، اس وقت حکومت کا کوئی اتحادی بھی 100 فیصد ان کے ساتھ نہیں ہے۔سماء نیوز کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے ایک ایم این اے کو کہا پہلے دن سے اپنی مرضی کرنی چاہیے تھی، تین سال ان کی مان کر ناکام ہوا۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں کارجحان اپوزیشن کی طرف ہے اور عمران خان سو فیصد مشکل میں ہیں، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن کا اتحاد پکا اور دیر پا ہے،جب مخالفین ایک شخص کیخلاف اکٹھے ہوتے ہیں تو تلخیاں بھلا دیتے ہیں،وزیر اعظم ذاتی حیثیت میں آنا چاہتے ہیں تو ویلکم کریں گے۔

انہوں نے یہ بات ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ حکومت کی ساری اتحادی جماعتوں کا رجحان سو فیصد اپوزیشن کی طرف ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمرا ن خان سو فیصد مشکل میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن کا اتحاد پکا اور دیر پا ہے اور جب مخالفین ایک شخص کیخلاف اکٹھے ہوتے ہیں تو تلخیاں بھلا دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی جانب سے وفود بھیجنے کا وقت گزر چکا ہے،وزیر اعظم ذاتی حیثیت میں آنا چاہتے ہیں تو ویلکم کریں گے۔پرویز الٰہی نے کہاکہ وزیر اعظم ایک ایک ووٹ والے کے پاس جارہے ہیں اگر یہ کام وہ پہلے کرلیتے ہیں تو بہتر ہوتا۔ جب ان سے یہ سوال کیاگیا کہ حکومت کے اتحادیوں کارحجان کس طرف ہے تو چوہدری پرویز الٰہی نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ اتحادیوں کا رجحان سو فیصد اپوزیشن کی طرف ہے اور عمران خان سو فیصد مشکل میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…