اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

’’عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو واشنگٹن سب کچھ معاف کر دے گا‘‘ پاکستانی سفیر کا مبینہ سائفر منظر عام پر

datetime 18  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک نجی ویب سائٹ ’’ڈراپ سائٹ‘‘ نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں

زیرِ بحث آنے والے مبینہ ’’سائفر‘‘ سے متعلق خفیہ دستاویز حاصل کرنے اور اسے عوام کے سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ سفارتی مراسلہ اُس وقت امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید کی جانب سے ارسال کیا گیا تھا، جس میں امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تفصیلات درج ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ یہی سائفر ان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی مداخلت کا ثبوت تھا۔ مبینہ دستاویز کے مطابق ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک پاکستان کے یوکرین معاملے پر اختیار کیے گئے مؤقف پر تشویش رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی غیر جانبداری کی پالیسی دراصل عمران خان کی ذاتی حکمتِ عملی ہے تاکہ وہ اندرونِ ملک خود کو آزاد خارجہ پالیسی کے حامل رہنما کے طور پر پیش کر سکیں۔

مبینہ سائفر کے مطابق پاکستانی سفیر نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی مختلف ریاستی اداروں کی مشاورت سے طے کی گئی تھی۔ انہوں نے امریکی حکام سے یہ بھی سوال کیا کہ آیا اقوامِ متحدہ میں ووٹنگ کے دوران پاکستان کی غیرحاضری امریکہ کی ناراضی کا سبب بنی؟ اس پر ڈونلڈ لو نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ اصل مسئلہ عمران خان کا ماسکو کا دورہ تھا۔

دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی عہدیدار نے کہا اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو واشنگٹن میں معاملات بہتر سمجھے جائیں گے، بصورتِ دیگر تعلقات میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفیر نے امریکی مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ روس کا دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس وقت تک یوکرین پر حملہ شروع نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انہی دنوں کئی یورپی رہنما بھی ماسکو جا رہے تھے۔

اس کے جواب میں ڈونلڈ لو نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ یورپی رہنماؤں کے دورے یوکرین تنازع کے حل کے لیے تھے جبکہ پاکستانی وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں تھا۔ پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ عمران خان نے ماسکو میں موجودگی کے دوران جنگی صورتحال پر افسوس کا اظہار بھی کیا تھا اور سفارتی حل کی امید ظاہر کی تھی۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی سفیر نے امریکہ کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اہم معاملات پر پاکستان کی حمایت چاہتا ہے لیکن کشمیر جیسے اہم مسئلے پر پاکستان کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کرتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یوکرین معاملہ امریکہ کے لیے اتنا حساس تھا تو پاکستانی قیادت سے پہلے رابطہ کیوں نہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ لو نے جواب میں کہا کہ امریکہ اس وقت پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی رابطوں کے لیے موزوں وقت نہیں سمجھتا اور سیاسی استحکام کا انتظار کرنا بہتر خیال کیا جا رہا ہے۔

مبینہ سائفر کے اختتام پر پاکستانی سفیر نے سفارش کی کہ اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور کے سامنے سفارتی احتجاج ریکارڈ کرانے پر غور کیا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…