اسلام آباد (این این آئی)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کو کم قیمت پر گندم دی گئی جس سے 1315 ملین کا نقصان ہوا۔ رانا تنویرحسین کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کئی
معاملات پر غور کیا گیا۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کو کم قیمت گندم دی گئی اور کم قیمت گندم دینے سے1315 ملین کا نقصان ہوا۔فوڈ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ یہ ای سی سی کا فیصلہ تھا، اْس وقت گندم کافی مقدار میں موجود تھی۔اس پر منزہ حسن نے کہا کہ کم قیمت پر گندم دینے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے؟ ایازصادق کا کہنا تھاکہ اگر شاہدخاقان کم قیمت ایل این جی پر پکڑیجاتے ہیں تو ان کو بھی پکڑنا چاہیے، اس پر جے آئی ٹی بننی چاہیے، یہ حکومت جاتی ہے تو سارے نیب کے کیسز ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ یار چھوڑو کب تک نیب کے پیچھے لگے رہیں گے؟ ایف آئی اے اور نیب کمپرومائزڈ ادارے ہیں۔اس پر ایاز صادق نے خواجہ آصف سے کہا کہ اگر آپ یہ فیصلہ کرتے تو آپ جیل میں ہوتے۔ابراہیم خان نے سوال کیا کہ اگر گندم سر پلس تھی تو درآمد کیوں کی؟۔



















































