اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے لیے حکومتی کوششیں ناکام ہونے کا امکان

datetime 2  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے لیے حکومتی کوششیں ناکام ہونے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کے اندرونی اور شریف خاندان کے قریبی ذرائع سے ہونے والی بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ حکومت نے جس قسم کی تفصیلی میڈیکل رپورٹس مانگی ہیں وہ شاید دستیاب نہ ہوں کیونکہ سابق وزیر اعظم کو ابھی تک کسی

ایسے طریقہ کار سے گزرنا باقی ہے جو انہیں ڈاکٹروں نے تجویز کیا تھا۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کے نئے طریقہ کار سے گزرنے کا مشورہ دیا گیا تھا جو خطرے سے خالی نہیں ہے، اس مسئلے کو کووڈ 19 نے مزید پیچیدہ کردیا جس کی وجہ سے برطانیہ میں اگر سبھی نہیں تو ایسی سرجریوں کو ملتوی کردیا گیا تھا جن کی جلدی نہیں تھی تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد کے خیال میں نواز شریف کے پاس علاج کے لیے کافی وقت ہے چاہے کووڈ ہو یا نہیں، اگر وہ دو سال تک صرف دواؤں پر زندہ رہ لیے تو ان کی حالت سنبھلی ہوئی ہے اور پاکستان واپس جانے کے لیے ٹھیک ہے۔پنجاب کی وزیر صحت اس سارے عمل کا ایک اہم حصہ رہی ہیں جس میں نواز شریف کو علاج کے لیے جاتے ہوئے دیکھا اور بعد میں اس امید پر ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے تھیں کہ وہ پاکستانی عدالتوں میں اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنے کے لیے واپس آ سکیں گے۔یاسمین راشد بتاتی ہیں کہ کارڈیک کیتھیٹرائزیشن، جس عمل سے سابق وزیر اعظم کو بیرون ملک جانے کے وقت گزرنا تھا، پاکستان میں بھی کیا جا سکتا تھا لیکن نواز شریف نے اصرار کیا کہ

وہ برطانیہ میں کرانے کو ترجیح دیں گے جہاں پہلے ہی دو بار ان کا آپریشن ہو چکا ہے۔خیال رہے کہ نواز شریف نومبر 2019 سے برطانیہ میں ہیں، جب جنوری 2020 ان کے طبی ٹیسٹس ہورہے تھے تو ڈاکٹروں نے جائزہ لیا تھا کہ کیا انہیں دل کے آپریشن، بائی پاس یا اسٹنٹ کی ضرورت ہوگی تاہم ان کے ہیماٹولوجیکل مسائل کی وجہ سے خاندانی ذرائع نے اس وقت کہا تھا کہ انہوں نے نواز

شریف کی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے امریکا کے سفر پر غور کیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع سے کی گئی بات چیت میں انکشاف ہوا کہ نواز شریف کو دل اور خون کے متعدد مسائل ہیں۔سابق وزیراعظم کے ماضی میں 2 مرتبہ (2010 اور 2016 میں) دل کے آپریشنز ہوئے اور 2019 میں تھرومبوکائیٹوپینیا سے گزرے جب انہیں پی ٹی آئی حکومت نے علاج کے لیے بیرونِ ملک

جانے کی اجازت دی تھی۔جس کے بعد انہیں دل کے تیسرے آپریشن کی تجویز دی گئی تھی اور بظاہر لگتا ہے کہ اس کے بغیر سابق وزیراعظم کے پاکستان آنے کا امکان نہیں۔شریف خاندان کے ذرائع نے بتایا کہ چونکہ اس طریقہ کار کے لیے تجربہ کار سرجنز کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر ان پیچیدگیوں کے پیش نظر جو انہیں گزشتہ طبی پروسیجرز میں ہوئیں اس بات کا امکان نہیں کہ خاندان ان کا علاج پاکستان میں کرائے گا۔اس کے بعد اس کے پاسپورٹ کا مسئلہ ہے جس کی معیاد ختم ہو گئی ہے جو کہ برطانیہ سے باہر سفر کو مشکل بنا دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…