مکوآنہ (این این آئی )فیصل آباد سمیت ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز سے گھی ، تیل اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا غائب ہوگئی ہیں۔ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر کئی روز سے گھی ، تیل اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا موجود ہی نہیں، جس کی وجہ سے مہنگائی کے مارے
عوام یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہیں۔یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن حکام نے بتایاکہ عام مارکیٹ میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران 100 سے زائد برانڈڈ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جب کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے ان اشیا کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا۔حکام نے بتایاکہ اسٹورز پر برانڈڈ گھی، تیل، ڈیٹرجنٹ، ٹوتھ پیسٹ اور صابن کا اسٹاک نہیں لیکن یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈائزڈ آئٹمز دستیاب ہیں۔حکام نے بتایاکہ وزارت صنعت کو قیمتوں میں اضافہ سے متعلق آگاہ کردیا ہے، کمپنیوں سے نئے ریٹ پر اشیا کی خریداری کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔دوسری جانب گھی اور تیل بنانے والی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھا دی ہیں، جس کے بعد اب مارکیٹ میں درجہ اول کا گھی 410 روپے فی کلو اور خوردنی تیل 420 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ صرف 2021 کے دوران خوردنی تیل 59.33 فیصد اور گھی 56 فیصد مہنگا ہوا تھا۔گھی اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کی بڑی تعداد مضر صحت اور ایران سے اسمگل کیا گیا تیل استعمال کرنے پر مجبور ہے



















































