کراچی (این این آئی)دعا منگی کیس میں کورٹ پولیس کی غفلت سے مرکزی ملزم کے فرار ہونے کے معاملے پر تفتیشی حکام نے انکشافات کیے ہیں کہ کورٹ پولیس ماضی میں بھی قیدیوں پر مہربان رہی ہے اور اہلکار ملزمان کو عدالت کے بہانے گھروں کی سیر بھی کراتے رہے ہیں
تفتیشی حکام کے مطابق جیل انتظامیہ نیکورٹ پولیس کے رویے پرگزشتہ سال 2خط لکھے تھے تاہم تحریری شکایتوں پر بھی کراچی پولیس نے نوٹس نہیں لیا تھا، ایک خط ایس ایس پی کورٹ پولیس اور ایک اے آئی جی آپریشنز کو لکھا گیا، خطوط میں کورٹ پولیس کے رویے اور واقعات کا تذکرہ بھی کیا گیا۔ایک خط میں بتایا گیا کہ 10اکتوبرکو قیدی اختر پٹھان عدالت سے واپس جیل نجی کار میں اکیلا پہنچا،قیدی نے بتایا کہ کورٹ پولیس نے سماعت کے بعدگھر جانیکی اجازت دی تھی۔ خط میں بتایا گیا کہ 25 مئی2017 کو حسین بخش قیدی کورٹ پولیس کی غفلت سے فرار ہوا تھا، قیدی حسین بخش کو عدالت کے بعد گھر جانیکی اجازت کورٹ پولیس نے دی تھی۔دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی نے دعا منگی اغوا کیس میں مرکزی ملزم زوہیب قریشی کے فرار پر غفلت و لاپرواہی کے کیس میں گرفتار اہلکار نوید اور حبیب ظفر کے جسمانی ریمانڈ میں 3 فروری تک توسیع کردی۔گرفتار اہلکار نوید اور حبیب ظفر کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا، دوران سماعت تفتیشی افسرنے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی۔عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 3 فروری تک توسیع کردی، ملزم کے فرار کا مقدمہ اے ایس آئی محمد خالد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق پولیس اہلکار ملزم زوہیب علی قریشی کو عدالت سے پرائیوٹ گاڑی میں جیل لیکر جا رہے تھے، ملزم نے طارق روڈ سے شاپنگ کرنیکا کہا تو اہلکار اسے شاپنگ مال لے گئے، ملزم شاپنگ مال میں پولیس کو جھانسہ دے کر فرار ہوگیا۔



















































