بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کراچی گرین بس پر پتھراؤ، بس کے شیشے ٹوٹ گئے

datetime 23  جنوری‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں گرین لائن بس سروس پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں بسوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔میڈیا رپورٹ کے کے مطابق کراچی میں گرین لائن بسوں پر چار جگہوں پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں بسوں کے شیشے ٹوٹ گئے، پتھراؤ کے فوری بعد کے مناظر کی ویڈیو سامنے آگئیں۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ گرین لائن کے اطراف کچھ

رہائشی بچوں نے شرارتاً پتھراؤ کیا۔ادھر پٹیل پاڑہ اسٹاپ پر پہنچنے والی گرین لائن بس کے دروازے لاک ہوگئے جس کے بعد مسافر بس میں ہی پھنس گئے بعدازاں مرمت کے بعد گیٹ کھولے گئے تو مسافر روانہ ہوئے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ گرین لائن کی حفاظت سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، اگر رینجرز بھی بلانی ہے تو وہ سندھ حکومت نے بلانی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ملزمان کو قانون کی گرفت میں لائے گی تو دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہریوں کے لیے معیاری سروس شروع کی گئی، بس سروس پر پتھراؤ ہونا افسوسناک ہے، پتھراؤ کے واقعات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔عمران اسماعیل نے کہا کہ اس معاملے پر ڈی جی رینجرز سے بھی بات ہوئی ہے، ڈی جی رینجرز کو کہا ہے کہ گرین لائن کے لیے رینجرز اہلکاروں کو گشت پر لگایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گرین لائن کے روٹ میں 15 سے 20 تھانے آتے ہیں لیکن مقدمہ درج نہیں ہوا۔علاوہ ازیں وفاقی

وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیدامین الحق نے کراچی میں گرین لائن بسوں پر پتھراؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں وفاقی وزیرنے کہاکہ گرین لائن کے کچھ اسٹیشنز پر پتھراؤ کی اطلاعات تشویشناک ہیں، کراچی کے شہریوں کو میسر جدید ٹرانسپورٹ سسٹم مافیا سے برداشت نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان کراچی شرپسند عناصر کے عزائم ناکام بنائیں، گرین لائن کی حفاظت کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ہے۔ امین الحق نے کہا کہ کراچی کے شہری گرین لائن کواپنا اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کاخیال رکھیں، شہرکو بدحال کرنے کے ذمہ دار عناصر اس منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…