اسلام آباد /کراچی (این این آئی)اسلام آباد سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 301 میں جہاز کے چلتے ہی زوردار آوازیں آنے لگیں، مسافروں نے احتجاج کرکے طیارہ رْکوادیا اور اْتر گئے۔مذکورہ طیارے میں 168 مسافر سوار تھے، تاہم طیارے کو کچھ دیر پہلے 6 مسافروں کے ساتھ کراچی کے لیے روانہ کیا گیا۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق 70 مسافروں نے پرواز کے
ساتھ جانے سے انکار کردیا ۔اسلام آباد سے کراچی کیلئے پی آئی اے کی پرواز مسلسل تاخیر کا شکار ہوگئی، پرواز کے لیے متعدد کوششیں ناکام ہوئیں۔مسافروں نے الزام لگایا کہ طیارہ چلتے ہی اس میں سے زور دار آوازیں آنا شروع ہوگئی تھیں، پہلے عملے نے مسافروں کو اْترنے نہیں دیا پھر مسافروں کے احتجاج پر طیارہ روک کر دروازہ کھول دیا گیا۔مسافروں کا الزام ہے کہ طیارے کا عملہ ان آوازوں کو کمپیوٹر کی خرابی قرار دیتا رہا، مسافروں کے احتجاج پر اے ایس ایف اہلکار طیارے میں داخل ہوئے، پی آئی اے کا عملہ اے ایس ایف کو سامنے کرکے خود غائب ہوگیا، طیارے میں 168 مسافر تھے جن میں سے زیادہ تر فلائٹ سے اتر گئے۔چھ مسافروں کے ساتھ پی کے 301 نے اسلام آباد سے کراچی کے لیے پرواز بھری، طیارے کے باقی مسافر بار بار فنی خرابی کے سبب طیارے سے اْتر گئے۔پی آئی اے ترجمان کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 301 کے 70 مسافر طیارے سے اتر گئے، باقی 54 مسافروں کے لیے متبادل پرواز کا انتظام کر رہے ہیں۔ ترجمان عبداللہ خان کی طرف سے اتوار کو جاری اعلامیہ کے مطابق پی کے 301 دوسری دفعہ اسلام آباد لینڈ کر گیا اور جہاز کے کپتان نے حفاظتی اصولوں کے پیش نظر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ مسافروں کو پیش آنے والی دشواری پر معذرت خواہ ہیں، تاہم احتیاطی تدابیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ترجمان عبداللہ خان نے کہا کہ دوبارہ دیکھ بھال کے بعد جہاز منزل مقصود پر روانہ ہوا ۔



















































