اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا چیف جسٹس پھٹ پڑے

datetime 29  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا۔چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے 2005 کے زلزلے سے خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی عدم تعمیر پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے ایرا کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کردی۔ عدالت عظمیٰ نے ایرا سے مکمل کیے گئے تمام منصوبوں کی تفصیلات تصویری شواہد سمیت طلب کرلیے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایرا کی رپورٹ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، زلزلہ متاثرین کی مدد تو قوم نے کی تھی، کراچی سے بھی لوگ متاثرین کی امداد کے لئے گئے تھے، لوگوں نے تو حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دے دیا تھا، ایرا نے کیا کیا؟ بین الاقوامی امداد بھی آئی، لوگوں نے بھی پیسہ دیا اور حکومت نے بھی، متاثرہ علاقوں میں تو مثالی ترقی ہونی چاہیے تھی، زلزلہ متاثرہ علاقوں کو تو دو سال میں دوبارہ بن جانا چاہیے تھا۔ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دو ماہ میں 148 اسکول تعمیر کرکے فعال کر دیے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسکول اب بن رہے ہیں 16 سال بچے کیا کرتے رہے؟ کتنے بچے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے ہوں گے، جیسی

عمارتیں بن رہی ہیں وہ تو چھ ماہ میں گر جائیں گی، بچوں اور اساتذہ کی زندگیاں خطرے میں لگ رہی ہیں، خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا۔دوران سماعت ترقیاتی کام کرنے والے ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگنے کا انکشاف ہوا، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیئے کہ دہشت گرد ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگ رہے

اور دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، کئی ٹھیکیدار بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کام چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، لگتا ہے کمشنر اور ڈی سی نے آپ کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ نہیں کیا، عدالت کے روبرو چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے بھتہ مانگنے کے واقعات سے اظہار لاعلمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی نشاندہی پر متعلقہ حکام سے رپورٹ لوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…