ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

پختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا چیف جسٹس پھٹ پڑے

datetime 29  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا۔چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے 2005 کے زلزلے سے خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی عدم تعمیر پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے ایرا کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کردی۔ عدالت عظمیٰ نے ایرا سے مکمل کیے گئے تمام منصوبوں کی تفصیلات تصویری شواہد سمیت طلب کرلیے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایرا کی رپورٹ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، زلزلہ متاثرین کی مدد تو قوم نے کی تھی، کراچی سے بھی لوگ متاثرین کی امداد کے لئے گئے تھے، لوگوں نے تو حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دے دیا تھا، ایرا نے کیا کیا؟ بین الاقوامی امداد بھی آئی، لوگوں نے بھی پیسہ دیا اور حکومت نے بھی، متاثرہ علاقوں میں تو مثالی ترقی ہونی چاہیے تھی، زلزلہ متاثرہ علاقوں کو تو دو سال میں دوبارہ بن جانا چاہیے تھا۔ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دو ماہ میں 148 اسکول تعمیر کرکے فعال کر دیے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسکول اب بن رہے ہیں 16 سال بچے کیا کرتے رہے؟ کتنے بچے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے ہوں گے، جیسی

عمارتیں بن رہی ہیں وہ تو چھ ماہ میں گر جائیں گی، بچوں اور اساتذہ کی زندگیاں خطرے میں لگ رہی ہیں، خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا۔دوران سماعت ترقیاتی کام کرنے والے ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگنے کا انکشاف ہوا، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیئے کہ دہشت گرد ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگ رہے

اور دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، کئی ٹھیکیدار بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کام چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، لگتا ہے کمشنر اور ڈی سی نے آپ کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ نہیں کیا، عدالت کے روبرو چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے بھتہ مانگنے کے واقعات سے اظہار لاعلمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی نشاندہی پر متعلقہ حکام سے رپورٹ لوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…