جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

جنرل اسمبلی اجلاس میں پختونوں بارے بیان پر ایمل ولی خان نے وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران کا یو این جنرل اسمبلی اجلاس میں پختونوں بارے بیان گمراہ کن اور رجعت پسندانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر عمران خان کے حالیہ بیان پر ردعمل دکھاتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا بیان حقائق کے بالکل برعکس ہے۔

پختون بطور قوم طالبان کے انتہاپسندی کا شکار بنے ہیں اور انہوں نے بطور قوم کبھی بھی طالبان کی حمایت کی ہے اور نا ہی ان کا کبھی ساتھ دیا ہے۔ عمران خان نے خود کئی مواقع پر یہ اعتراف کیا ہے کہ دہشتگرد اور انتہاپسند تنظیموں کو پاکستان کی ریاست نے ہی تربیت فراہم کی ہے جسکے بدلے ان کو ڈالر ملے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اے این پی دہشتگردی اور انتہاپسندی کے حوالے سے ایک واضح موقف رکھتی ہے۔ ہمارے اکابرین نے ہمیشہ پختون خطے میں جاری پرائی جنگ کو جہاد کی بجائے فساد قرار دیاتھا اور اے این پی آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔ ہمارے اکابرین نے چالیس سال قبل پاکستان کو اس پرائی جنگ میں کودنے سے منع کیا تھا۔ لیکن اس وقت ان کی کسی نے نہیں سنی اور ان پر غداری، ملک دشمنی اور کفر کے فتوے لگے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہوئی ہے اور ببانگ دہل اس کا مقابلہ کیا ہے۔اے این پی کے بشیر بلور شہید سے لیکر ہارون بلور، میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے راشد حسین شہید، رکن صوبائی اسمبلی عالمزیب خان شہید اور ڈاکٹر شمشیر سمیت سینکڑوں قائدین اور کارکنان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کو صرف اس لئے شہید کیا گیا کیونکہ وہ اس مٹی پر امن کے خواہاں تھے اور دہشتگردی کے خلاف ایک واضح موقف رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حقائق سے منہ مڑ کر پختونوں کو بطور قوم دہشتگردوں کا ہمدرد ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم واضح کرتے جائیں کہ نا تو کرنل امام پختون تھے اور ہی جنرل حمید گل۔ اسلام آباد میں بیٹھ کر لال مسجد سے فتوے جاری کرکے ریاستی رٹ چیلنچ کرنے والا مولوی بھی پختون نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ

تزویراتی پالیسی کے نام پر اپنے اہداف کے حصول کیلئے پختونوں پر طالبان اور ان کا نظریہ مسلط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس جس میں زیادہ تعداد پختون افسران اور اہلکاروں ہی کی ہے نے ہمت اور بہادری سے دہشتگرد طالبان کے خلاف جنگ لڑی ہے اور اسی جنگ میں خیبر پختونخوا نے ملک سعد اور صفت

غیور جیسے قابل افسران سمیت سینکڑوں پولیس اہلکار کھوئے ہیں۔ وزیراعظم نے حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان سے پختون قوم اور باالخصوص دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیارے کھونے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، وزیر اعظم کا بیان متاثرین کو ان کے دکھوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے مترادف ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…