جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

حضرت علی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فر ما تے سنا کہ میری امت پندرہ قسم کی برائیوں میں مبتلا ہو گی

datetime 11  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )آج ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں اس میں ہر شخص نفسہ نفسی کا شکار نظر آ تا ہے اور جتنی فکر ہمیں دنیا سمیٹنے کی ہے اتنا ہی دور ہم دینی تعلیمات سے ہو تے جا رہے ہیں یوں تو ہم اپنے علماء اور مساجد کے اما موں سے ق ی ا م ت کی کچھ بڑی نشانیوں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں۔ لیکن آج ہم آپ کو پندرہ حیران کر

دینے والی نشانیاں بتانے جا رہے ہیں جن کو سننے کے بعد آپ کو حضور ﷺ کے بے انتہا علم کہ نہ صرف اندازہ ہو گا بلکہ ان نشانیوں کے متعلق ارشاد فر ما یا کہ میری امت پندرہ قسم کی برائیوں کا ارتکاب کر ے گی جو آج کے دور میں ہمارے معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ہمارے گھروں میں ہو رہی ہیں، انکو سن کر آپ خود کہیں گے کہ یہ سب حر ف بحرف ہمارے گھروں میں آج ہو رہا ہے اور ان براؤں کے متعلق یہاں تک ارشاد فر ما یا کہ اگر یہ برائیاں ہونے لگ جا ئیں تو اللہ تعالیٰ ہواؤں کو پاگل، زمیوں کو بے وفا اور زمینوں کو سرکش بنا دیتے ہیں۔ تو سوچا کیوں نہ آپ سب ناظرین کے سامنے بھی یہ باتیں رکھ دی جا ئیں تا کہ جانے انجانے میں جن چیزوں کا ہم شکار ہو رہے ہیں ان نشانیوں کو جان کر ہم ان سے خود بھی بچ سکیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بچا سکیں۔ تو آپ حضرات کے علم میں اضافے کے لیے ایک بات بتاتے چلیں کہ اب تک جتنی نشانیوں کے متعلق حضور نے پیشنگوئی پر فرما ئی وہ آج حرف بحرف پوری ہو ر ہی ہیں ان واقعات

اور نشانیوں سے صرف مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہو رہا ہے بلکہ ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو بھی ان واقعات سے نفع پہنچے گا۔ اور وہ بھی یہ سن کر یقین کر لیں گے داعی اسلام علیہ الصلاۃ والسلام ان سب انسانوں کے سردار تھے جنہیں اس مالک حقیقی سے خصوصی تعلق تھا تو پیارے دوستوں یہ نشانیاں جن کے متعلق آپ کو بتانے جا رہے ہیں یہ حضور ﷺ کے

بے انتہاء سمد ر علم کا ایک قطرہ علمک مالم رکن تعلم “یعنی خدائی علم کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہیں۔ چنانچہ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ میری امت پندرہ قسم کی برائیوں کا ارتکاب کر ے گی تو امت پر بلا ئیں اور مصیبتیں آن پڑیں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کیا کیا برائیاں ہیں؟ تو اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے

ارشاد فر ما یا۔ نمبر ایک۔ جب مالِ غنیمت کو شخصی دولت بنا لیا جا ئے گا مال غنیمت کو دولت قرار دئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر سلطنت کے اہل طاقت و ثروت اور اونچے عہدے دار مال غنیمت کو شرعی حکم کے مطابق تمام حقداروں کو تقسیم کرنے کی بجائے خود اپنے درمیان تقسیم کر کے بیٹھ جا ئیں اور محتاج و ضرورت مند چھوٹے لوگوں کو اس مال سے

محروم رکھ کر اس کو صرف اپنے مصرف میں خرچ کرنے لگیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اس مال غنیمت کے تمام حقداروں کا مشترکہ حق نہیں سمجھتے بلکہ ذاتی دولت سمجھتے ہیں۔ نمبر۔ دو جب امانت کو غنیمت سمجھ لیا جا ئے گا امانت کو مال غنیمت شمار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس امانتیں محفوظ کرائی جا ئیں وہ ان اما نتوں میں خیانت کرنے لگیں اور اما نت کے مالِ غنیمت کی طرح اپنا ذاتی حق سمجھنے لگیں جو د ش م ن وں سے حاصل ہو تا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…