طالبان کا خوف افغان خاتون کی جان بچانے میں مدد کے لیے فریاد

  ہفتہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2021  |  11:42

کابل(این این آئی )ایک ایسے وقت میں جب طالبان کی تحریک پورے افغانستان میں ڈرامائی انداز میں تیزی کے ساتھ صوبے فتح کر رہی ہے افغان خواتین اپنی زندگیوں اور پچھلے 20 سالوں میں مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے چھن جانے سے خوفزدہ ہیں۔برطانوی ٹی وی کے مطابق

افغان خواتین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ان میں سے بہت سی طالبان کی ملک پر قبضے اور اس کے نتائج کے خوف کی وجہ سے مدد کی بھیک مانگ رہی ہیں۔فریاد پر مبنی پیغام میں ایک افغان خاتون جو کہ میڈیا فیلڈ میں کام کرتی نظر آتی ہے التجا کی کہ حکومت افغانستان سے نکالنے میں ان کی مدد کرے۔ ان کا کہناتھا کہ میں آپ سے یہاں سے نکلنے میں مدد کرنے کے لیے کہتی ہوں تاکہ میں بیرون ملک اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں۔خاتون نے مزید کہا کہ ان دنوں افغانستان کے حالات خراب تر ہو رہے ہیں۔ میں نے ایک پروگرام تیار کیا ہے جو خواتین کے حقوق ، افغان فوج اور افغانستان میں ترقی کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں نہیں جانتی کہ میں یہاں زندہ رہوں گی یا ماری جائوں گی۔انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ میں بیرون ملک رہ کربھی اپنے وطن کی خدمت کر سکتی ہوں۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎