دیا مر، بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم پھربند، سیاح پھنس گئے

  پیر‬‮ 2 اگست‬‮ 2021  |  14:06

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)دیامر میں وقفے وقفے سے بارش کے باعث سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم پھر بند ہوگئی۔ڈپٹی کمشنر دیامر سعد بن اسد کےمطا بق تتہ پانی اور لال پری سمیت 3 مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم بند ہوگئیجس کی وجہ سے مسافر اور سیاح پھنس گئے ہیں۔نجی ٹی وی ڈی سی کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے تتہ پانی میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے لہٰذا سیاح اور مسافر ضلعی انتظامیہ دیامر کی ہدایات کے مطابق سفر کریں۔دوسری جانب شاہراہ قراقرم 50 میٹر تک سیلاب میں بہہ گئی جس


کے بعد اسے ایک بار پھر بند کردیا گیا۔محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق شاہراہ قراقرم رائیکوٹ پل سے گورنرفارم تک 25 مقامات پر بلاک ہے، گزشتہ رات شدید بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈسلائیڈنگ کے باعث شاہراہ بلاکہوئی جب کہ شاہراہ 50 میٹر تک سیلاب میں بہہ گئی ہے۔محکمہ داخلہ کا کہناہے کہ شاہراہ کوجلد از جلد کھولنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اس میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں لہٰذا مکمل بحالی تک شاہراہ قراقرم رائیکوٹ پل سے گورنرفارم تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔اس کے علاوہ استور کے متاثرہ علاقوں میں واٹر سپلائی کا نظام اب تک بحال نہیں ہوسکا ہے جب کہ ضلع غذر میں بھی گلیشیئرز پگھلنے سے ندی نالوں اور دریا کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا۔دوسری جانب بلتستان ڈویژن میں موسلادھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی ہے اور برالدو میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔دوسری جانب گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے مختلف بالائی پہاڑوں سے گلیشیر پگھلنے اور بدصوات گلیشیر وقفے وقفے سے سرکنے کا سلسلہ گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔گشگش پڑی میں بلاک اشکومن روڈ اورگلگت چترال روڈ کو بحال کر دیا گیا ہے ۔دریائے غذر میں طغیانی سے ہاسس گورنمنٹ اسکول کی مختلف رابطہ سٹرکیں اور یاسین کے بالائی علاقہ درکوت میں لینڈ سلائیڈنگ سے 10 گھرانے متاثر ہوئے ہیں۔لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہونے والے ان 10 گھرانوں کو انتظامیہ نے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر غذر ضمیر عباس کے مطابق نشیبی علاقوں کے عوام کو دریائی کٹائو سے بچنے کیلئے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔


زیرو پوائنٹ

دو ہزاربچوں کا محسن

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎