جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین کی ملی بھگت سے کورونا ویکسین فروخت کئے جانے کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 26  جولائی  2021 |

کراچی(این این آئی)شہر قائد میں مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کی ملی بھگت سے کورونا ویکسین فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے ، مقدمہ درج کرکے دیگر ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔پولیس کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان گھروں میں موجود افراد کو کورونا ویکسین معاوضہ لے کرلگایا کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں چھاپہ مار کر نجی ہیلتھ سروسز کے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے ایک کمپنی کا ڈائریکٹر اور دوسرا ملازم ہے۔ساؤتھ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ گھر گھر جا کر لوگوں کو ان کی خواہش کے مطابق کورونا ویکسین لگاتے تھے جس کی وہ غیر قانونی طور پر قیمت بھی وصول کرتے تھے جب کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ویکسین کی کوئی قیمت نہیں ہے اور وہ بلامعاوضہ دی گئی ہے۔صدر کے علاقے میں واقع تھانہ پریڈی میں اس حوالے سے باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میںتعزیرات پاکستان کی چوری، جھوٹ، دھوکہ دہی اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی دفعات کے علاوہ ڈرگ ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔تھانہ پریڈی میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کو سرکاری کوٹے میں سے کورونا ویکسین کی فراہمی سرکاری افراد کی ملی بھگت سے ممکن ہوتی تھی جن کی نشاندہی اور تلاش کے لیے تفتیش کی جا رہی ہے۔تفتیشی پولیس کے مطابق ملزمان نے ابتدائی طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ فائزر ویکسین کی ایک خوراک لگانے کے 15 ہزار روپے لیتے تھے جب کہ سائنو فارم ویکسین کے 7 ہزار 660 روپے اور کینسائنو کے 4 ہزار 500 روپے فی خوراک وصول کرتے تھے۔ابتدائی تفتیش میں

ملزمان نے 60 سے زائد افراد کو فائزر ویکسین لگانے کا انکشاف کیا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق اب تک کی جانے والی تفتیش کے دوران ویکسین فراہم کرنے والے سرکاری ملازمین کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق پولیس اس حوالے سے مزید تفتیش کر رہی ہے ، ملوث افراد کی تلاش شروع کردی گئی ہے جن کی جلد گرفتاری کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…