جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

خیبر پختونخواہ میں بلیک میلنگ کا سلسلہ چل رہا ہے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد

datetime 6  جولائی  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے پولیس کمپلینٹ کمیشن اور پبلک سیفٹی خیبر پختونخوا میں بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ عدالت عظمی نے ملازمین گریڈ 17 میں بھرتی کے معاملے پر کے پی کے حکومت سے جواب طلب کر لیا۔ سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل

کے پی کے کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معاملہ پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ بغیر پبلک سروس کمیشن کے کیسے درخواست گزاروں کو پروموٹ کر دیا گیا۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ تمام ملازمین کی اپ گرڈیشن ہوئی ہے،درخواست گزاروں نے توہین عدالت کی درخواست دی تھی اس لیے ریگولر کردیا۔ دوران سماعت ملازمین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ چند افراد کے علاوہ باقی سارے ملازمین کو ریگولر کردیا گیا ہے،سول ججز بھی بغیر مقابلے کے امتحان کے تعینات ہوتے ہیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ججز پبلک سروس کمیشن کے تحت نہیں آتے ان کیلئے الگ شرائط ہوتی ہیں۔اس دوران چیف جسٹس نے گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کے پی کے میں بلیک میلنگ کا سلسلہ چل رہا ہے،عدالت کسی کو ریگولرائز نہیں کرسکتی یہ حکومت کا کام ہے،عدالتوں کے فیصلوں سے ریگولرائزیشن نہیں ہو سکتی قانون کے مطابق ہوتی ہے۔ عدالت عظمی نے کے پی کے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملہ پر سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…