دمشق(این این آئی)شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری نے کہاہے کہ شام میں امریکی اور اتحادی فوج کے سب سے بڑے اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ یہ فوجی اڈہ العمر آئل فیلڈ میں واقع ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق آبزرویٹری نے بتایا کہ یہ راکٹ دریائے فرات کے مغرب میں دیز الزور میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا
کے اثر و رسوخ والے علاقوں سے شروع المیادین شہر میں قائم امریکی فوجی اڈ پر داغے گئے۔دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان نے بتایا ہم المیادین میں قائم عمر آئل فیلڈ میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سے آگاہ ہیں۔دریں اثنا سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے اپنے فیس بک پیج پر تصدیق کی کہ نامعلوم ذرائع سے داغے گئے دو راکٹ العمر آئل فیلڈ میں گرے جہاں امریکی فوجی اڈا قائم ہے تاہم ان راکٹ حملوں سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا کہنا تھا کہ اس اڈ ے پر موجود فورسز داعشی سیلز کا تعاقب کرنے کے لیے المیادین کے اس اڈے کو استعمال کر رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری ریاست بننے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیردفاع گینٹز نے کہا کہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی ہے۔ ہمیں اپنا دفاع خود کرنا ہوگا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایرانی لیڈر جانتے ہیں کہ ہم ایرانی سرزمین کے اندر کام کر رہے ہیں۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے وزرا دفاع ، خارجہ اور سیکیورٹی اداروں کیسربراہان کی موجودگی میں ایرانی جوہری پروگرام اور سنہ 2015 کے معاہدے میں امریکا کے واپس آنے کے امکان پر غور کے لے اجلاس منعقد کیا۔