جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

کام کی زیادتی موت کا سبب بنتی ہے، عالمی ادارہ صحت کی حیرت انگیز رپورٹ

datetime 25  جون‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا ہے کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کی ایک تازہ رپورٹ میں کام کے طویل اوقات سے انسانی صحت پر پڑنے والے برے اثرات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق کام کے طویل اوقات کی وجہ سے

انسانی صحت پر اتنے برے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں کہ اس کی وجہ سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اقتصادی عدم اطمینان کی وجہ سے کئی لوگوں کو طویل اوقات تک کام کرنا پڑتا ہے اور یہ صورت حال عالمی وبا کورونا کے ایام میں خاص طور پر زیادہ دیکھی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے انسانوں کو مختلف امراض کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں عارضہ قلب سب سے زیادہ ہے۔سال 2016 میں کام کے طویل اوقات کی وجہ سے دنیا بھر میں 7 لاکھ 45 ہزار افراد اپنی زندگی سے محروم ہو گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کی موت ہارٹ اٹیک اور ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ اضافہ سال 2000 کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔ریسرچ میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا میں کام کے زیادہ اوقات کا سامنا کرنے والی آبادی نو فیصد ہے۔ڈبلیو ایچ او کے شعبہ ماحولیات و صحت کی ڈائریکٹر ماریہ نے کہاکہ ایک ہفتے میں پچپن گھنٹے کام کرنے سے صحت کے شدید مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے لیے عام لوگوں تک بنیادی معلومات پہچانا اور ملازمین کی صحت کا تحفظ بھی بہت ضروری ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس آڈہانوم گیبرائسس نے کہاکہ حکومت اور اداروں کو اپنے ملازمین کی صحت کو مقدم سمجھنا چاہیے جبکہ ملازمین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ زندگی کے سامنے روزگار کی کوئی اہمیت نہیں اور بہتر ہے کہ کام اس طرح کیا جائے کہ ہارٹ اٹیک یا اسٹروک سے محفوظ رہا جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…