ایک اور عالم دین کی بچے سے زیادتی کی ویڈیو وائرل ہو گئی

  بدھ‬‮ 23 جون‬‮ 2021  |  14:32

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)ایک اور عالم دین کا کم عمر بچے سے زیادتی کا افسوسناک واقعہ منظر عام پر آگیا ۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ چنیوٹ کے نواحی علاقے محمد والا ڈاشیخان جامع امام العصر میں رونما ہوا ہے جہاں عالم دین مظہر عباس نجفی نے دو ماہ قبل ایک کم عمر بچے کو اپنی حواس کا نشانہ بنایا تھا ۔ پولیس نے کہا ہے کہ یہ واقعہ 2ماہ پرانا ہے جس کا مقدمہ بچے کےوالد کے بیان پر درج کر کے ملزم بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ بچے کے والد کے مطابق ملزم


کے خلاف کارروائی ویڈیو وائرل ہونے پرکی گئی۔دوسری جانب مفتی عزیز الرحمان کی طالب علم کیساتھ نامناسب ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن کا انہوں اعتراف بھی کر لیا ہے ۔ طالبعلم سے بدفعلی میں ملوث ملزم عزیز الرحمان نے اعتراف جرم کرلیا۔پولیس کے مطابق عزیز الرحمان نے دوران تفتیش اعتراف جرم کیا اور ملزم نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بیان میں کہا یہ ویڈیو میری ہی ہے جو صابر شاہ نے چھپ کر بنائی، طالبعلم صابر کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر ہوس کا نشانہ بنایا اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوف اور پریشانی کا شکار ہوگیا تھا۔ملزم عزیز الرحمان نے اعترافی بیان میں کہا کہ بیٹوں نے صابر شاہ کو دھمکایا اور اسے کسی سے بات کرنے سے روکا، صابر شاہ نے منع کرنے کے باوجود ویڈیو وائرل کردی، میں مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اس لیے ویڈیو بیان جاری کیا جب کہ مدرسے کے منتظمین اور مہتمم ویڈیو کے بعد مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکے تھے۔ ملزم کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد ٹاؤن شپ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں شاگردوں کے پاس ٹھہرتا رہا، میری اور بیٹوں کی فون لوکیشن ٹریس ہوتی رہی، اس دوران میانوالی میں چھپا ہواتھا کہ پولیس نے گرفتار کرلیا۔ملزم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں اور بھٹک گیا تھا۔ دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمیل نے کہا ہے کہ واقعہ کامقدمہ درج ہونے کے بعد وزیراعظم آئی جی پنجاب کے ساتھ رابطے میں رہے،کیس ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس تک پہنچا۔ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور نے بتایا کہ مقدمہ میں چار ملزمان نامزد ہیں، مرکزی ملزم فرار ہوگیا تھا، جو میانوالی سے گرفتار کر لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹیسٹ کیس ہے، پنجاب فورنزک لیب موجود ہے جو شواہد کا ٹیسٹ کرے گی، ہمارا کام شواہد جمع کرکے عدالت میں پیش کرناہے تاکہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوائی جاسکے۔شارق جمیل نے کہا کہ پولیس کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے گی، قانون کے مطابق کام کریں گے، شفاف اور بہتر تفتیش کریں گے تاکہ ملزم کو عدالت سے سزا ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد وزیراعظم آئی جی پنجاب کے ساتھ رابطہ میں رہے۔ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور نے کہا کہ ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور قانونی ضابطے کے مطابق کام کرتے رہیں گے، کیس کی شفاف اور بہتر تفتیش کریں گے تاکہ عدالت سے ملزم کو سزا ہوسکے۔


زیرو پوائنٹ

صرف پانچ ہزار روپے کے لیے

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎