اب وراثتی سرٹیفکیٹ صرف15 دن میں نادرا سے حاصل کیا جا سکےگا‎

  منگل‬‮ 22 جون‬‮ 2021  |  22:17

کراچی (آن لائن )وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے نادرا کے ساتھ وراثتی سرٹیفکیٹ کا کام شروع کیا جوکہ اس سے پہلے عدالت کے ذریعے جاری کیا جاتا تھا، اس سرٹیفکیٹ کو 15 دن کے اندر نادرا کے متعلقہ دفتر سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے نادرا ڈی ایچ اے دفتر میں وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء سے متعلق افتتاحی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کی۔انھوں نے کہا کہ سندھ نے نادرا کے ساتھ ملکر سکسیشن سرٹیفکیٹ کا کام شروع کیا اس سے پہلے یہ سرٹیفکیٹ عدالت کے


ذریعے جاری کیا جاتا تھا اور عدالتیں تین سے چھ ماہ اور کبھی کبھار تو پانچ سال میں سکسیشن سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مطابق عدالت کے مجموعی کام کے 30 فیصد کام کا بوجھ وراثتی سرٹیفکیٹ کا ہوتا ہے۔حکومت سندھ نے قانون میں ترامیم کرکے سکسیشن اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کا اجرائ￿ نادرا کے ذریعے کیا ہے اور اب درخواست گذار کو نادرا کے دفتر سے انتقال کرنے والے شخص کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنے سمیت ، دستاویز، شناختی کارڈ اور قانونی ورثائ￿ کے قانونی لیٹر کی کاپیاں جمع کرکے مجوزہ سرٹیفکیٹ حا صل کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نادرا نے سکسیشن سرٹیفکیٹ کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا ہے، اب یہ سکسیشن سرٹیفکیٹ 15 دن میں نادرا سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سندھ حکومت نے اثاثے ایک لاکھ سے زائد ہونے کی صورت میں سکسیشن سرٹیفکیٹ کی فیس 22 ہزار روپے مقرر کی ہے اور اگر اثاثے ایک لاکھ سے کم ہیں تو اسکی فیس 10 ہزار روپے ہوگی۔حکومت سندھ کا یہ انقلابی قدم عوام کیلئے سہولت ثابت ہوگا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے جنوری 2021 میں بل پاس کیا اور 28 اپریل کو یہ قانون بنا جبکہ چھ ہفتوں کے بعد ہم نادرا میں اس کا افتتاح کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں ڈی جی نادرا برگیڈیئر طلعت کا شکرگزار ہوں کہ وہ اسلام آباد سے تشریف لائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نادرا کے ذریعے پورے صوبے میں یہ سہولت کاؤنٹر بنائے جائیں گے اور 25 جون تک پورے صوبے میں اس پر کام شروع ہوجائے گا۔انھوں نے کہا کہ نادرا کا کام بہترین ہے، لہٰذہ سکسیشن سرٹیفکیٹ کا کام بھی بہتر انداز میں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پنشن دینے کا کام نادرا زخود کررہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ کورونا ویکسین کوئیصوبہ خود خرید نہیں کر رہا، وفاقی حکومت ویکسین خرید کر صوبوں کو دے رہی ہے، وزیراعظم نے این سی او سی کے اجلاس میں صوبوں کو ہدایت کی تھی کہ ویکسی نیشن کا عمل تیز کریں اور ہم آئندہ تین ماہ میں 10.8 ملین افراد کو ویکسین کرنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر ہم عمل کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ بنی گالہ تو ریگیولر ہوگیا لیکن گجر نالہ کے رہائشوں کےگھر مسمار کئے جاتے ہیں، نسلہ ٹاور کیلئے سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے، سپریم کورٹ نے بلڈر کو ہدایت کی ہے کہ وہ رہائشیوں کو معاوضہ دے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ویکسی نیشن کے نادرا سرٹیفکیٹ میں خامیاں ہوجاتی ہیں تو وہ درست بھی ہوجاتی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہاکہ سعودی عرب اگر ہمارے ہاں لگنے والی ویکسین کو قبول نہیں کرتا تو یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے، یو اے ای نے انڈین ایئرلائیز کی اجازت دی ہے لیکن پاکستان کی پروازوں کو اجازت نہیں دی۔انھوں نے کہا کہ ہم بجٹ28 جون کو پاس کریں گے اور مزدور کارڈ بھی نادرا کے ساتھ شروع ہو جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ رین ایمرجنسی پلان پر کام ہورہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اب ظاہر ہو رہے ہیں، سمندری طوفان، بارشیں اور گردوباد کے طوفان موسمی تبدلیوں کا نتیجہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں شہباز گل کی کسی بات کا جواب نہیں دوں گا،شہباز گل کو جواب دینے کیلیے ہم ایک شہباز گل دوئم تلاش کررہے ہیں یہ تو جہاں بھی ہوتے ہیں، نکالے جاتے ہیں۔ ایک اور سوا ل کے جواب میں کہا کہ گلیاں یاچوراہے بنانا تو وزیراعظم کا کام نہیں، پنجاب کی طرح سندھ کو بھی اچھے منصوبے وزیرعظم کو دینے چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ وفاق کو مجھ سے براہ راست بات کرنی چاہئے، گورنر کے ذریعے بات نہ کریں۔


زیرو پوائنٹ

صرف پانچ ہزار روپے کے لیے

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎