جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

’’یہ 4 چیزیں بدنصیبی کی پہچان ہیں‘‘

datetime 31  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حضرت محمدﷺ نے فرمایا: کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، قبر میں اس سے سوال ہوا، تمہارے پاس کوئی نیکی ہے؟ اس نے کہا: کہ میں لوگوں سے خرید فروخت کرتا تھا، اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا، تو میں مالداروں کو مہلت دیا کرتا تھا، اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کردیا ۔ کرتا تھا، اس پر اس کی بخشش ہوگئی۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: چارچیزیں آپ کو ختم کردیتی ہیں؟ پریشانی ، غم ، بھوک اور دیر سے سونا۔ حضرت حسن بصری ؒ نے بلند آواز میں فرمایا

لوگو! اللہ تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہو، دروازہ ضرور کھلتا ہے۔ ایک بڑھیا نے سنا تو بولی: اے حسن، کیا اللہ تعالیٰ کا دروازہ بند بھی ہوتا ہے؟ حسن بصری ؒ یہ با ت سن کر غش کھا کر گر پڑے۔ اور فرمایا: اے اللہ پاک : یہ بڑھیا تجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہے۔ سب سے برا کھیل وہ ہے جو کسی کے خلوص سے کھیلا جائے۔ اللہ جب بہترین سے نوازتا ہے تو پہلے بدترین سے گزارتا ہے۔ اگر آدمی کی نیت درست ہو اور وہ کوشش شروع کردے تو اللہ تعالیٰ کی مدد آجایا کرتی ہے۔ میں نے بندگی کا طریقہ پرندوں سے سیکھا! جن کے گھونسلے طوفانی راتوں میں تباہ ہوجاتے ہیں، مگر صبح ہوتے ہی وہ شکایتوں کے بجائے اللہ سبحان و تعالیٰ کی حمد و ثناء میں مصروف ہوجا تے ہیں۔ اناؤں، نفرتوں، خود غرضیوں کے ٹھہرے پانی میں محبت گھولنے والے پڑے درویش ہوتے ہیں۔ ہر آدمی اپنا درخت الگ الگ اگانا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسانیت کا باغ تیار نہیں ہوتا۔ ہر میاں بیوی پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب کچھ لوگ ان کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس مشکل وقت میں نکل گیا۔ وہ سکھی اور جو لوگوں کی باتوں میں آگیا اس کا مقدر نہ ختم ہونے والا دکھ ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: چار چیزیں بد نصیبی کی پہچان ہیں ۔ پہلا: آنکھوں کا خشک ہونا: اللہ کے خوف سے کسی وقت بھی آپ کے آنسو نہ ٹپکے ہوں۔ دوسرا: دل کا سخت ہوجانا: آخرت کے لیے یا کسی دوسرے کےلیے کسی وقت بھی کبھی نرم نہ پڑے۔ یعنی کسی غریب ، یتیم ، مسکین کو دیکھ یا کسی بھی معاملے پر جہاں پر رحم دلی کا مظاہرہ کرنا ہو۔ وہاں پر آپ کا دل نرم نہیں ہوتا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل سخت ہوچکا ہے۔ تیسرا: امیدوں کا لمبا ہونا: لمبی لمبی امیدیں رکھنا کہ میں ابھی یہ کروں گا۔ دس سال بعد یہ کروں گا۔ بیس سال بعد یہ کروں گا۔ اور پل بھر کی خبر نہیں کہ مو ت کب آجائے اور امیدیں آپ کی دس پندرہ سال ہوں۔ تو یہ بھی علامت ہے بدنصیبی کی۔چوتھا: دنیا کی لالچ: آج کے دور میں ہم یہی تو کر رہے ہیں۔ کہ دنیا کی بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ آخرت کو بالکل بھول چکے ہیں۔ دنیا کی بھاگ دوڑ میں لگ کر چاہے وہ حلال طریقے سے آرہا ہو۔ حر ام طریقے سے آ رہا ہو۔ بس پیسا کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنا دین ، اپنا قبلہ سب ہم نے پیسے او ر دولت کو بنا کر رکھا ہوا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…