اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

علاج صرف 2 دن، بل ہزاروں ریال،جدہ کے پرائیویٹ ہسپتال سے پاکستانی شہری کی میت کی واپسی کیلئے پاکستان نے خطیر رقم ادا کر دی

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ٓاسلام آباد(آن لائن) پاکستانی شہری کی میت جدہ کے پرائیویٹ ہسپتال سے واپس پاکستان لانے کے لئے حکومت پاکستان نے 53ہزار ریال ادا کر دئیے۔ ہر ی پور کے رہائشی چوہدری زرداد کو جدہ میں دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے فوری طور پر پرائیویٹ ہسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں انہیں صرف دو دن کے علاج کی سہولت فراہم کی گئی

اور بل 60ہزار ریال بنا دیا گیا۔ مرحوم کے ورثاء رقم ادا نہیں کر سکتے تھے۔ پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات انجینئر افتخار کی کوششوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔سعودی حکومت کی طرف سے میت پرٹریفک جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا۔ ہری پور کے گاؤں نلہ کا رہائشی چوہدری زرداد کو دل کا دورہ پڑنے سے جدہ کے مقامی پرائیویٹ ہسپتال میں لایا گیا تھا۔انجینئر افتخار چوہدری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے خصوصی درخواست کی تھی کہ مرحوم کے ورثاء یہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہیں، جس پر وزارت خارجہ نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز کو ہدایات جاری کیں کہ مرحوم کے واجبات ادا کرکے میت پاکستان بھجوائی جائے۔پاکستان کے سفارتخانے کی طرف سے 53ہزار ریال ادا کرکے میت سرکاری ہسپتال میں شفٹ کی دی گئی ہے، تاہم ابھی میت پر سعودی قوانین کے تحت ٹریفک جرمانے واجب الادا ہیں، جن کا بندوبست سعودیہ میں مقیم پاکستانی خود کر رہے ہیں۔مرحوم کے ورثاء نے انجنیئر افتخار چوہدری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ اد کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…