اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت پنجاب نے شہباز شریف کی ملکیتی رمضان شوگر کو چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،مل پر کسانوں کے کتنے کروڑ کے بقایاجات ہیں؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

بھوانہ(آن لائن) حکومت پنجاب نے کسانوں کے55کروڑ روپے بقایاجات کی ادائیگی تک شہباز شریف کی ملکیتی رمضان شوگر کو چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر چنیوٹ نے مل انتظامیہ پر واضح کر دیا ہے کہ کسانوں کے بقایات کی سو فیصد ادائیگی تک یہ مل دوبارہ نہیں چلے گی، مل انتظامیہ نے

کسانوں سے گنا کی خریداری کا دوبارہ پروگرام نیایا تھا اور گاؤں گاؤں اعلانات بھی کرائے گئے ہیں تاہم مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ غریب کسانوں کے گزشتہ سال کے55کروڑ کی ادائیگی باقی ہے جب تک سابقہ بقایاجات ادا نہیں ہوتے اس وقت تک مل کو دوبارہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے، رمضان شوگر مل بھوانہ کے مالکان میں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز ہیں جو غریب کسانوں کے 55کروڑ روپے ہضم کر چکے ہیں، اور ایک سال سے گنا کی ادائیگی کرنے سے انکاری ہیں، چنیوٹ اور جھنگ اضلاع کے 5ہزار گنا کے کاشتکار ایک سال سے اپنی ادائیگیوں کے لئے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن شریف خاندان نے ادائیگی نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، ڈی سی آفس چنیوٹ اور اے سی آفس بھوانہ کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کیا جارہا ہے، تاہم کین کمشنر پنجاب شریف خاندان کا ذاتی ملازم بنا ہوا ہے، جس نے ریونیو ایکٹ کے تحت ادائیگی کرانے ہیں ایکشن نہیں لیا جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب ناصر کھوکھر بھی کمزور آدمی ہیں وہ بھی سخت ایکشن نہیں لے سکے جس کے نتیجہ میں اب مقامی انتظامیہ کو ہی ایکشن لینا پڑا ہے اور ہو سکتا ہے کہ طاقتور مافیا ان دیانتدار افسران کا تبادلہ بھی نہ کرا دیں جس پر کسان پھر احتجاج کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…