اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

مولانافضل الرحمان کو خاموش کروانے کیلئے کون کون سی بڑی آفرز کی گئیں؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ڈیر ہ اسماعیل خان (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مجھے بلوچستان حکومت دینے سے لے کر چیئرمین سینیٹ بنانے تک کئی عہدوں کی پیشکش کی گئی، وزیرِ اعظم استعفیٰ دیں یا پھر 3 مہینے کے اندر اندر الیکشن کرائے جائیں،تحریک ملک کے بازاروں تک جائے گی، ہر ضلع میں مظاہرے شروع ہوں گے۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آپ کو پتہ نہیں مجھے کتنی پیشکشیں کی گئی ہیں

کہ آپ کے لیے سیٹ خالی کر دیں۔انہوں نے بتایا کہ مجھے کہا گیا کہ آپ ڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آ جائیں، کہا گیا کہ آپ کو ہم بلوچستان حکومت دے دیتے ہیں، صوبے کی گورنر شپ دے دیتے ہیں، چیئرمین سینیٹ کے عہدے کی پیش کش بھی ہوئی، یہ ساری پیشکشیں اِسی دورِ حکومت میں ہوئیں، ہم نے ان سب کو حقیر سمجھا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا حکم دے دیا ہے، 5 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر ریٹائر ہو رہے ہیں، امید ہے کہ وہ عہدے سے ریٹائرمنٹ سے پہلے اس کا فیصلہ دیں، چیف الیکشن کمشنر ریٹائرمنٹ سے پہلے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیں ورنہ انہیں ایکسٹینشن دی جائے۔انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنا پرانا مطالبہ دہرایا کہ وزیرِ اعظم استعفیٰ دیں یا پھر 3 مہینے کے اندر اندر الیکشن کرائے جائیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے شاہراہوں کی بندش ختم کرنے کا فیصلہ کیا، کارکنوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک ہفتے سے شاہراہیں بند رکھیں، اب یہ تحریک ملک کے بازاروں تک جائے گی، ہر ضلع میں مظاہرے شروع ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال میں ملک کی معیشت تباہ ہو گئی، اگر ٹماٹر 300 روپے میں ملتا ہے تو کہتے ہیں کہ 17 روپے کلو ہے، یہ کیا جانیں ملک کا غریب کس کرب سے زندگی گزار رہا ہے۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ دوسروں کو چور چور کہنے والے خود احتساب سے بھاگ رہے ہیں، فارن فنڈنگ کیس سے 5 سال سے راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں، کہتے ہیں میں کھلاڑی ہوں مقابلہ کرنا جانتا ہوں، مگر اکبر ایس بابر کے مقابلے سے بھاگنے کی کوشش ہور ہی ہے، کتنا بزدل کھلاڑی ہے، اپنے اوپر آتی ہے تو راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک مہینہ دھرنا رہتا تو میں استعفیٰ دے دیتا، وہ اکیلے اپنی بات کر رہے ہیں، میں تو پورے ٹبر کو کہہ رہا ہوں جاؤں، ہمیں تمام عہدوں کی پیش کش ہوئی، ہم نے اس پیشکش کو حقیر سمجھا ہے، قوم تو ان کی روزانہ چول سنتی ہے، اب عدالت نے بھی سن لی۔انہوں نے کہا کہ آگے جو بھی ہوگا، ہمارے حق میں ہو گا، جعلی اکثریت کو ہٹانے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کر رہے ہیں، پرویز الٰہی نے اپنی سوچ کے حساب سے باتیں کی ہیں، اب جس شخص کو عمران خان چور کہیں یہ اس کی بے گناہی کے لیے کافی ہے، کہتے ہیں کہ میں سب کو جیلوں میں ڈالوں گا، پھر کہتے ہیں کہ یہ نیب کر رہا ہے، وہ کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…