اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

میرے خلاف غداری کا مقدمہ کس مقصد کے تحت بنایا گیا ، شہلا رشید نے حیرت انگیز اعلان کر دیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2019 |

سرینگر (این این آئی)کشمیری سیاسی کارکن شہلا رشید نے نئی دلی پولیس کی طرف سے انکے خلاف بغاوت کے مقدمے کے اندراج کوانتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ا س غیر سنجیدہ اورسیاسی انتقام پر مبنی اقدام کا مقصد انہیں خاموش کرانے کی کوشش کرنا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شہلا رشید نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ انہیں میڈیا رپوٹس کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ نئی دلی پولیس کے خصوصی سیل نے انکے خلاف کشمیر کے محاصرے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے خلاف آواز اٹھانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انکے خلاف مقدمے کا اندراج انتہائی افسوسناک ہے جسکا واحد مقصد انہیں خاموش کرانے کی کوشش کرنا ہے۔ یاد رہے کہ نئی دلی پولیس نے شہلا رشید کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوں پرتبصرہ کرنے پرجمعہ کے روز غداری کا در ج کر لیا ۔ شہلا رشید نے جو نئی دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرر ہی ہیں ٹویٹر پر جاری اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے دفعہ370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ علاقے میں جاری سخت کرفیو اور پابندیوں کے دوران بھارتی فوجی انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہیں۔انہوںنے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں حکمران بھارتی جنتا پارٹی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںکی جارہی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…