ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں عوام غاصبانہ قبضے کے خلاف کرفیو توڑ کر باہر نکل آئی، بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال

datetime 7  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں عوام غاصبانہ قبضے کے خلاف کرفیو توڑ کر باہر نکل آئی ہے۔ سری نگر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6افرادشہید،100سیزائد زخمی ہوگئے ہیں۔ بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں پر پیلٹ گن اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیاہے۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام غاصبانہ قبضے کے خلاف کرفیو توڑ کر باہر نکل آئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تیسرے روز بھی کمیونیکیشن بلیک آؤٹہے۔ سری نگر، پلوامہ بارہ مولا سمیت کئی علاقوں میں

بھارت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا پلان بھی بنایا جارہاہے۔واضح رہے کہ بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا نے گزشتہ روزکشمیر کی علیحدہ حیثیت ختم کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔لوک سبھا میں 351 ووٹ بل کے حق میں اور 72 مخالفت میں پڑے جبکہ ایک ممبر غیر حاضر رہے۔اس سے قبل گزشتہ سے پیوستہ روز بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا نے کشمیر کی علیحدہ حیثیت اور شناخت ختم کرنے سے متعلق”جموں وکشمیرتنظیم نو بل، 2019“ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کو بھارت سے متحد نہیں رکھتا بلکہ اسے الگ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مناسب وقت پھر سے کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائیگا۔ امیت شاہ نے بھارت کے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو کشمیر کے مسئلہ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔بھارتی وزیر داخلہ نے ایوان زیریں اور ہندوستان کے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت آرٹیکل 371 کو ختم نہیں کرنا جاہتی اور نوکریوں میں مقامی لوگوں کے حق کو تسلیم کیا جائیگا۔بھارتی حزب اختلاف کے اراکین کی طرف سے مشاورت نہ کرنے اور اعتماد میں نہ لینے کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ مشاورت کرتے کرتے تین نسلیں گزر گئیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور حالات کو بد لنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…