ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درپیش خطرات میں پاکستان حیران کن پوزیشن پر،چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کی بریفنگ میں انکشاف

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل محمدافضل نے کہاہے کہ اسوقت موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درپیش خطرات میں پاکستان کا نمبرساتواں ہے ہرسال ڈھائی ارب ڈالرسے زائد رقم قدرتی آفات کے بعد امدادی کارروائیوں پرخرچ کئے جاتے ہیں موثرپالیسیاں اپناکر قدرتی آفات میں کمی کی جاسکتی ہے۔پشاورمیں میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمدافضل نے کہاکہ ہرسال اوسطاًڈھائی ارب ڈالر اور

زیادہ قدرتی آفات کے باعث 18ارب ڈالرتک رقم قدرتی آفات کے بعد امدادی کارروائیوں پر خرچ کی جاتی ہے یہ رقم قومی مجموعی پیداوار کا تقریباًسات فیصدبنتی ہے آبادی مسلسل اضافے اوردریاؤں کے کنارے رہائشی کالونیوں اور کارخانوں کی تعمیرکے باعث شہری سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں کراچی میں سیلاب کی سب سے بڑی وجہ وہاں موجودنالیوں میں پلاسٹک بیگزاوربوتلوں کی موجودگی ہے انہوں نے کہاکہ قدرتی آفات کی روک تھام کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کرنی چاہئے ایرا و رپیرا کی قانونی پیچیدگیوں کو دورکیاجارہاہے اوران اداروں کوبہت جلد این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے میں ضم کیاجائے گا،چیئرمین این ڈی ایم اے نے وضاحت کی کہ اسوقت چترال میں 17مقامات ایسے ہیں جہاں قدرتی آفات کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں اس لئے ہم نے خیبرپختونخواحکومت سے درخواست کی ہے کہ ایبٹ آباد کی طرز پر چترال میں بھی بلین سونامی ٹری منصوبے کے تحت درخت لگائے جائیں انہوں نے کہاکہ رواں ہفتے این ڈی ایم اے کی ٹیم چترال کا دورہ کریگی تاکہ خود ان مقامات کی نشاندہی کی جاسکے جہاں قدرتی آفات کے خطرات موجود ہیں اگرچہ اسوقت چترال میں کسی ایسے بڑے خطرے کاوجود نہیں لیکن قدرتی آفات کے پیش نظر منصوبہ بندی کرنی چاہئے انہوں نے بتایاکہ 2005کے زلزلے میں تباہ شدہ بالاکوٹ نیوسٹی کی تعمیر پر بہت جلد کام کاآغازہوگا

اس متعلق تمام قانونی پیچیدگیاں دورکی جارہی ہیں سپریم کورٹ نے اس متعلق جواحکامات دئیے ہیں ان ہدایات کی روشنی میں بالاکوٹ نیوسٹی پر کام کیاجائے گا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان میں رواں سال معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث کلاؤڈبرسٹ کے واقعات رونماہوئے ہیں سیکرٹری آبادکاری عابدمجیدنے اس موقع پر بتایاکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ایک انڈوومنٹ فنڈبنایاجارہاہے کیونکہ ہرسال معمول کے بجٹ سے آبادکاری کے لئے کٹوتی نہیں کی جاسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…