ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عالمی تنہائی اور معاشی زبوں حالی کا شکار ہونیوالے قطر اور ایران نے گٹھ جوڑ کر لیا

datetime 14  جولائی  2019 |

دوحہ(این این آئی)مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے کے نتیجے میں عالمی تنہائی کا شکار ہونے والے ایران اور قطر نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا۔ دونوں ملکوں کو درپیش معاشی بحران اور عالمی سطح پر دونوں ملکوں کی تنہائی انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دفاعی تجزیہ نگار احمد فتحی نے اپنے مضمون میں ایران اور قطر کی باہمی قربت کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔ مضمون نگار نے کہاکہ ایران اور قطر دونوں پڑوسی ملکوں کے بائیکاٹ کا سامنا کرنے کے ساتھ

عالمی تنہائی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ایک سکے کے دو رخ کے مصداق دونوں ممالک کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے قربت میں بتدریج اضافہ ہوا۔2017میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کیا۔ قطر پر خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت، دہشت گردوں کی پشت پناہی، اخوان المسلمون اور القاعدہ کے عناصر کو پناہ دینے، یمن، لبنان، شام اور دوسرے ملکوں میں اپنے ایجنٹ بھرتی کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔حال ہی میں چھ جولائی کو ایران کے صوبہ فارس کے گورنر عنایت اللہ رحیمی نے قطر کا دورہ کیا۔ رحیمی کے ہمراہ آنے والے ایرانی تاجروں نے قطر میں موجود کاروباری اور حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ عنایت اللہ رحیمی نے بتایا کہ انہوں نے قطری حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں دوطرفہ اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں تعاون سے اتفاق کیا ہے۔قطر میں ایرانی سفیر محمد علی سبحانی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے جنوبی اضلاع کے قطر کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات ہیں مگر ایران کے دوسرے صوبے اور اضلاع بھی دوحا اور تہران کے درمیان جاری تعلقات کے فائدوں سے محروم نہیں۔تجزیہ نگار احمد فتحی کا کہنا تھا کہ ایران اور قطر کی باہمی تجارت اور درآمدات وبرآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جب سے عرب ممالک نے قطر کا بائیکاٹ کیا ہے، دوحا نے تہران کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے دن رات کام شروع کر رکھا ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے قطر کی فضائی سروس کے بائیکاٹ کے بعد دوحا اور تہران کے درمیان یومیہ 200 اضافی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…