ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کا ایک اور متنازعہ فیصلہ، غریب ڈرائیور پر تشدد کرنے والے شخص کو انسانی حقوق کا فوکل پرسن لگا دیا،عوامی ردعمل پر نوٹس لے لیا گیا‎

datetime 13  جولائی  2019 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے تحریک انصاف کے رہنما میر افتخار احمد خان لنڈ کو صوبہ سندھ میں انسانی حقوق سے متعلق معاملات کا فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے، اس تقرری کا نوٹیفیکیشن 10 جولائی 2019ء کو جاری کیا گیا، افتخار لنڈ کی اس تقرری پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے کیونکہ افتخار لنڈ کے بارے میں کچھ عرصہ قبل

یہ اطلاعات تھیں کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے غریب ڈرائیور کو معمولی سی بات پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا بلکہ اس کے جسم کے پچھلی جانب لوہے کا ایک راڈ داخل کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا تھا، افتخار احمد کے تقرری نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ انسانی حقوق سے متعلق یہ ذمہ داری رضاکارانہ طور پر انجام دیں گے، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، دوسری جانب چیئرمین قائمہ کمیٹی سینٹ برائے انسانی حقوق نے اس تعیناتی پر نوٹس لے لیا ہے، چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے انسانی حقوق نے ڈرائیور پر وحشیانہ تشدد کرنے والے افتخار لوند کی تعیناتی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی اور گھوٹکی کو ڈرائیور پر تشدد کے مقدمے کے رکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ جمعہ کو چیئرمن قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے انسانی حقوق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے افتخار لوند کی تعنیاتی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی اور گھوٹکی کو ڈرائیور پر تشدد کے مقدمے کے رکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے کہاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ملزم کو کس ضابطے کے تحت تعینات کیا گیا ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف حکومت چن چن کر انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے والوں کو آگے لا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کی قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو انسانی حقوق کا ترجمان بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…