ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان اسمبلی غیر منتخب لوگوں کی کابینہ میں شمولیت پر پھٹ پڑے، اسد عمر کو ہٹانے کا بھی شکوہ، وزیراعظم کے جواب نے ارکان اسمبلی کو چپ کرا دیا

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی غیر منتخب لوگوں کی کابینہ میں شمولیت پر پھٹ پڑے،پارلیمنٹ میں اہل لوگ موجود ہیں، غیر منتخب لوگوں کو مسلط کرنا ناقابل قبول ہے،غیر منتخب لوگوں کے بجائے عوامی نمائندوں کو موقع دیا جائے تو اچھے نتائج آئیں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی

پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے اجلاس کے دور ان ارکان اسمبلی غیر منتخب لوگوں کی کابینہ میں شمولیت پر پھٹ پڑے۔ذرائع کے مطابق ارکان نے کہاکہ پیراشوٹرز کی کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ نامناسب ہے۔ارکان نے کہاکہ حکومتی پالیسیوں میں عوام کے نمائندوں کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔ ارکان نے کہاکہ پارلیمنٹ میں اہل لوگ موجود ہیں، غیر منتخب لوگوں کو مسلط کرنا ناقابل قبول ہے۔ارکان اسمبلی نے کہاکہ اپوزیشن کو خود تنقید کا موقع دیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنا ہے، اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لیتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ آپکے تحفظات اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن کچھ سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسد عمر کو تبدیل کرنا بھی سخت فیصلہ تھا، اسد عمر آج بھی میرا رائٹ ہینڈ ہے۔وزیراعظم نے ارکان کو اجلاس ختم ہوتے ہی حلقوں میں جانے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کہاکہ اپنے حلقوں میں جائیں، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر رمضان پیکج پر عملدرآمد کرائیں۔ارکان قومی اسمبلی نے نے نیا بلدیاتی نظام لانے پر وزیراعظم کی تعریف کی۔ پرویز خٹک نے کہاکہ پنجاب کا بلدیاتی نظام اچھا ہے، خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ذرائع نے بتایاکہ تحریک انصاف کے اراکین نے اسد عمرکونکالنے کا شکوہ کردیا، رکن پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے سوال کیاکہ بتائیں اسد عمرکوکیوں ہٹایا گیا ہے؟ وزیر اعظم نے کہاکہ اسد عمر تحریک انصاف کا اثاثہ ہیں،آپ مشورہ ضروردیں لیکن آخری فیصلہ میراہوگا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے عوام کوجواب دینا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…