اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

دشمنوں کے منہ پر زور دار طمانچہ،265فراریوں نے ہتھیار ڈال دئیے قومی پرچم کے سائے تلے سکون کی زندگی گزر بسر کرونگا،ہتھیار ڈالنے والے فلک شیر نے پہاڑوں پر بیٹھے اپنے ساتھیوں کو زبردست مشورہ دے ڈالا

datetime 19  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوئٹہ ( آن لائن)265 فراری وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو اپنے ہتھیار حوالے کر تے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہو گئے۔ قومی دھارے میں شامل ہونیوالے فراریوں اورکمانڈرز کو قومی پرچم اور کمانڈر کوپانچ لاکھ ،سب کمانڈر کو ڈھائی لاکھ جبکہ دوسرے فراریوں کو ایک ، ایک لاکھ روپے دیئے گئے ۔

فراریوں کی ہتھیار ڈالنے کی تقریب صوبائی اسمبلی کے سبزہ زار میں ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی ، کمانڈر سدن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم با جوہ ، قائم مقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر ورکن صوبائی اسمبلی سردار یار محمد رند ، صوبائی وزراء ، اراکین اسمبلی ، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم ، انسپکٹر جنرل پولیس محسن حسن بٹ سمیت اعلیٰ عسکری وسول حکام بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر فلک شیر نے کہا ہے کہ پندرہ سال اغیار کے ہاتھوں میں استعمال ہونے پر آج مجھے افسوس ہے۔ پہاڑوں سے اترے تو بلوچستان کے حکومت میں ہمیں پیار سے گلے لگایا ۔قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد آج میں اپنے اہل خانہ کیساتھ سکون کی زندگی گزار رہا ہوں۔ میں باقی دوست جو پہاڑوں پر بیٹھے ہیں ان سے یہی کہونگا کہ وہ بھی اغیار کے ہاتھوں میں استعمال ہونے کے بجائے قومی دھارے میں شامل ہو کر باعزت شہری بنیں۔ 15 سال دوسروں کے ہاتھوں میں استعمال ہونے پر آج ہمیں افسوس ہے اور آج کے بعد میں کالعدم تنظیم کو چھوڑ کر پاکستان کے ایک مہذب شہری کی حیثیت سے زندگی گزارونگا۔ آج کے بعد قومی پرچم کے سائے تلے سکون کی زندگی گزر بسر کرونگا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…