جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نظام دکن کا ہیرے جڑا سونے کا لنچ باکس اور کروڑوں روپے کی اشیاء چوری ہو گئیں، چوروں نے ثبوت کیسے ختم کئے ، انتہائی کن تفصیلات

datetime 6  ستمبر‬‮  2018 |

حیدر آباد دکن(آئی این پی )بھارت میں نظام دکن کا ہیرے جڑا سونے کا لنچ باکس اور دیگر اشیاء چوری ہو گئیں، تین کلو وزنی ان اشیا کی قیمت تقریبا 70 لاکھ ڈالر ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس سابق حکمران نظام دکن کے ہیرا جڑے طلائی ٹفن کریئر کی چوری کی جانچ کر رہی ہے۔چوروں نے اس کے علاوہ یاقوت اور سونے کی بنی ایک چائے کی پیالی، طشتری اور چمچہ بھی چوری کر لیا ہے۔

تین کلو وزنی ان اشیا کی قیمت تقریبا 70 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔اس چوری کا پیر کی صبح کو پتہ چلا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ چوری اس سے پہلے والی رات کو ہوئی۔پولیس نے بی بی سی تیلگو کو بتایا کہ انھیں دو لوگوں پر چوری کا شبہ ہے۔انڈیا کے معروف اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق پولیس نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ چوروں نے سی سی ٹی وی کیمرے سے چھیڑ چھاڑ کی تاکہ ان کی چوری کی کوئی ریکارڈنگ نہ ہو سکے۔اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جس شیشے کی الماری میں یہ چیزیں رکھی ہوئی تھیں ان کے شیشوں کو سکریو کھول کر نکالا گیا ہے۔یہ چیزیں نظام میوزیم میں تھیں جس کا افتتاح 2000 میں کیا گیا تھا۔ اس کے نوادرات میں میر عثمان علی خان کو سنہ 1937 میں دیے گئے بیش قیمتی تحائف شامل ہیں۔عثمان علی خان انڈیا کی سب سے بڑی ریاست حیدرآباد کے حکمران تھے۔ ان کا انتقال 1967 میں ہوا تھا۔ان کے مشہور زمانہ خزانے میں یعقوبی یعنی سفید ہیرا بھی شامل تھا جو ایک انڈے کے برابر تھا اور اسے دنیا میں موجود پانچواں سب سے بڑا ہیرا کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے جواہرات بھی ان کے خزانے میں شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…