جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عمران حکومت کا امریکی وزیر خارجہ اور وفد کو (ن) لیگی حکومت کی طرز کا پروٹو کول ،شاہد خاقان عباسی کے برعکس عمران خان کے امریکی وزیرخارجہ اور جنرل کے ساتھ رویئے نے سب کو چونکادیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی )امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کے دوران نئی حکومت نے وہی پروٹوکول انہیں دیا جو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت کے دوران سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونیوالے دورے میں دیا گیا تھا، ایئرپورٹ پر سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن اور موجودہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا استقبال وزارت خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکرٹری نے کیا جبکہ وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جبکہ شاہدخاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن 24اکتوبر کو جب پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو ان کی سابق وزیراعظم سے ملاقات کے دوران سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے تاہم سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بہت گرمجوشی سے سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن سے ہاتھ ملایا تھا اور کافی دیر تک وہ ان سے ہاتھ ملاتے رہے جسکی ویڈیو ریکارڈ پر موجود ہے ۔ بعد ازاں اس وقت کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا سابق امریکی وزیر خارجہ سے تعارف کرایا تھا ۔ شاہد خاقان سے ہونے والی ملاقات میں سابق وزیر دفاع خرم دستگیر ، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی موجود تھے جبکہ وزیراعظم عمران خان سے ہونیو الی ملاقات میں عمران خان نے امریکی وزیر خارجہ پومپیو سے زیادہ گرمجوشی سے ہاتھ نہیں ملایا اور شاہد خاقان عباسی کی طرح سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن کے سامنے بیٹھنے کی بجائے وزیراعظم عمران خان مرکزی کرسی پر بیٹھے جو وزیراعظم کیلئے مختص ہے جبکہ ان کے دائیں طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ،

امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اور امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کی طرف سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی موجود تھیں ۔ وزیراعظم عمران خان جب امریکی وزیر خارجہ سے ہاتھ ملا کر اپنی نشست پر بیٹھنے لگے تو دوسری طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کی توجہ دلائی کہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ سے بھی ہاتھ ملائیں جس پر عمران خان نے ان سے بھی ہاتھ ملایا اور اپنی نشست پر بیٹھ کر بات چیت شروع کردی ۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…