جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پنجاب میں30لاکھ گھروں کی فراہمی کے منصوبے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس،صرف 15دن میں بڑا کام مکمل کرنے کافیصلہ کرلیاگیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (این این آئی ) پنجاب حکومت نے اپنے منشور پر عملدرآمد پر کام تیز کر دیا، صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمودالرشید کی زیر صدارت پنجاب میں30لاکھ گھروں کی فراہمی کے منصوبے کو قابل عمل بنانے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس، پرائیویٹ پارٹنر شپ سمیت مختلف تجاویز پر غور، ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ محمود حسن کی سربراہی میں سب کمیٹی قائم،15روز میں سفارشات کو مرتب کرکے مسودہ وزیراعظم کو پیش کیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق

گزشتہ روز صوبائی وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ میاں محمودالرشید کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری ہاؤسنگ محمد حسن اقبال،50لاکھ گھروں کے منصوبے پر بننے والی ٹاسک فورس کے چیئرمین یعقوب اظہار، سربراہ اخوت ڈاکٹر امجد ثاقب، ڈی جی ایل ڈی اے، ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ اور دیگر پرائیویٹ ایکسپرٹ نے شرکت کی اور اپنی اپنی تجاویز دیں، اجلاس میں غریب ترین طبقے، لو ئر مڈل کلاس اور مدل کلاس کے تین الگ الگ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور صوبائی وزیر کو محکمہ ہاؤسنگ کی ملکیتی اراضی سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میاں محمودالرشید نے کہا کہ غریب عوام کو گھر کی فراہمی صرف سیاسی نعرے نہیں بلکہ بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی حکومت کے منشور کا حصہ ہے، اس منصوبے پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، ماضی میں روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر عوام کو بے وقوف بنایا گیا اور غریب کے جذبات سے کھیلا گیا لیکن ملک بھر میں50لاکھ جبکہ پنجاب میں 25 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا گیا جسے پورا کر کے دکھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسران غریب شہری کو کم سے کم قیمت پر گھر کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائیں۔ صوبائی وزیر میاں محمودالرشید نے ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ محمود حسن کی سربراہی میں سب کمیٹی قائم کر دی،

کمیٹی 15روز میں سفارشات مرتب کرے گی جسے حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم عمران خان کو پیش کیا جائیگا۔ قبل ازیں صوبائی وزیر میاں محمودالرشید نے منسٹر بلاک میں پارٹی کارکنان کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تنقید کی پرواہ نہیں، اخلاقی طور پر کمزور ترین اپوزیشن کا سامنا ہے، حکومت کی ترجیح انسان ہیں تمام تر اقدامات اور قانون سازی عوام کے مفاد کو مد نظر رکھ کر بنائی جائے گی اسلئے اپوزیشن کا کوئی دباؤ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی ہر مثبت تجویز پر غور کرینگے ماضی کی طرح اپوزیشن کو نظر انداز نہیں کرینگے۔ وفد میں پی ٹی آئی کے رہنما شیخ امتیاز، انجینئر عامر قریشی، شوکت بھٹی، حافظ ذیشان رشید اور دیگر شامل تھے۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…