جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کچھ زیادتیاں عدلیہ سے بھی ہوئی ہیں ٗ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا اعتراف کرلیا

datetime 4  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ کچھ زیادتیاں عدلیہ سے بھی ہوئی ہیں۔سپریم کورٹ میں کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر سستی ہاؤسنگ سوسائٹوں کا بل بنایا گیا تھا جسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا تھا، لیکن اب تک مجوزہ قانون پر مزید کوئی کام نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے بل پر وفاقی اور

صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ بل کو منظور کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے اور پارلیمنٹ کے کام میں عدلیہ کا کوئی کردار نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ زیادتیاں عدلیہ سے بھی ہوئی ہیں، لوگ سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے حکم امتناعی لے لیتے ہیں، کچی آبادیوں میں لوگوں نے کمرشل عمارتیں اور گھر بنا کر کرائے پر دے رکھے ہیں، گھروں میں فریج، ڈش، ائیرکنڈیشن رکھے ہوئے ہیں، کیا ایسے لوگوں کو زمین کی ملکیت دے کر ریاست کو اس کی اراضی سے محروم کیا جاسکتا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ملک کی بڑی آبادی چھت کی سہولت سے محروم ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ امریکہ میں بھی ہرشخص کے پاس اپنا گھر نہیں، ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں موازانہ نہیں ہوسکتا، کیا ریاست کے پاس اتنا بجٹ ہے کہ ہر شہری کو گھر فراہم کرسکے، جس ملک میں لوگ ٹیکس چوری کرتے ہو کیا اس ملک کے پاس اتنا پیسہ ہوگا، کیا گھر سے زیادہ تعلیم اور صحت کی سہولیات ملنا ضروری نہیں۔عدالت نے ہاؤسنگ پالیسی 2001 پر بھی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…