جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے کیلئے دائر درخواست،انہوں نے توہین کب اور کیسے کی؟افسوسناک انکشافات

datetime 4  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری باسط علیم نے سابق سینئر پولیس آفیسر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے کیلئے دائر کی گئی درخواست پر ایس ایچ او سیکرٹریٹ کو آج منگل کو طلب کر لیا ۔درخواست گزار سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس سلیم اللہ خان نے سیشن کورٹ اسلام آباد میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ عمران خان نے وزارت عظمی کا حلف اٹھاتے ہوئے نہ صرف لفظ خاتم النبین غلط پڑھا بلکہ ہنسے اور

مذاق بھی اڑایا۔ صدر ممنون حسین کی جانب سے لفظ درست کرانے کے باوجود عمران خان نے غلطی دہرائی جبکہ عمران خان لفظ قیامت بھی غلط پڑھ کر مسکرائے جس سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات و جذبات کو ٹھیس پہنچی ۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عمران خان کے دل میں ان الفاظ کی کوئی حرمت نہیں ہے ۔سلیم اللہ کان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ایس ایچ او سیکرٹریٹ محبوب احمد کووزیر اعظم عمران خان کے خلاف 19 اگست کو 295 سی کے تحت مقدمہ اندراج کی درخواست دی مگر پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ ہوئی ہے ۔لہذا استدعا ہے کہ عدالت پولیس کو عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کرے۔عدالت نے آج منگل کو ایس ایچ او سیکرٹریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ہے ۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری باسط علیم نے سابق سینئر پولیس آفیسر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے کیلئے دائر کی گئی درخواست پر ایس ایچ او سیکرٹریٹ کو آج منگل کو طلب کر لیا ۔درخواست گزار سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس سلیم اللہ خان نے سیشن کورٹ اسلام آباد میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ عمران خان نے وزارت عظمی کا حلف اٹھاتے ہوئے نہ صرف لفظ خاتم النبین غلط پڑھا بلکہ ہنسے اور مذاق بھی اڑایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…