جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کبھی اتنی فعال اور متحرک نہیں ہوئی‘‘ کچھ دنوں پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار کیساتھ ایسا کیا ہوا تھا کہ جس نے انہیں بدل کر رکھ دیااور وہ ازخود نوٹسزاور دن رات کام پر مجبور ہو گئے

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا کامران خان کے ساتھ‘‘کے میزبان اور معروف صحافی کامران خان نے اپنے پروگرام میں پاکستان میں عدلیہ کے متحرک اور سرگرم ہونے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اس وقت بھرپور انداز میں فعال ہے، سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار جس انداز میں متحرک ہیں اس کی مثال

بہت کم پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں ملتی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں، ہر روز کئی کئی ازخود نوٹسز لے رہے ہیں، صرف اس سال کے پہلے 31دنوں کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے جتنے ازخود نوٹس لئے ہیںوہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکے ہیں اور بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ۔ گزشتہ 24گھنٹوں میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 6ازخود نوٹس لئے، جس انداز کی فعالیت ہے ان میں ، جس انداز سے وہ متحرک ہیں،وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ دراصل حال ہی میں ایک لمحہ آیا جس نے انہیں جھنجھوڑااور جس کی وجہ سے اب وہ ایک نئے انداز اور نئی انرجی کے ساتھ کام کرتے نظر آرہے ہیں۔ وہ ایک لمحہ تھا حالیہ دنوں میں آیا جس نے انہیں اس رخ اور سمت پر گامزن کیا۔ واضح رہے کہ کامران خان کا اشارہ چیف جسٹس کی لاہور میں ایک تقریب میں تقریر کی طرف تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’شاید اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی ایک لمحےکی سوچ پر میرے میں یہ سب تبدیلی لائی، چوربھی قطب بن جاتے ہیں، وہ لمحہ میں آپ سے شیئر نہیں کر سکتا جس نے مجھ میں تبدیلی پیدا کر دی۔ کامران خان نے پروگرام کے آخر میں چیف جسٹس کی اس تقریر کا اس حصے کا کلپ بھی چلایا جس میں چیف جسٹس اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کر رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…