جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں سزا یافتہ تین ملزموں کو سات سال بعد بری کردیا،ہائی کورٹ نے بھی بغیر دیکھے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر مہر لگا دی،افسوسناک انکشافات

datetime 19  جولائی  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں سزا یافتہ تین ملزموں کو سات سال بعد بری کردیا۔ جمعرات کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دہشت گردی کے الزام میں سزا یافتہ تین ملزموں کی اپیل کی سماعت کی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کا بہت اونچا لیول ہوتا ہے، لیکن اس کے ایسے فیصلوں کو کیسے اہمیت دیں، ٹرائل کورٹ نے جس جرم کی سزا دس سال تھی اس میں 14 سال قید کی سزا سنا دی، پھر ہائی کورٹ نے بھی بغیر دیکھے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر مہر لگا دی، ہائی کورٹ نے اندھا دھند انصاف کیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انصاف اندھا ہوتا ہے لیکن اندھا دھند نہیں ہوتا، واقعے میں 12 لوگ جل کر خاکستر ہو گئے لیکن تفتیش، ٹرائل اور عدالتی فیصلوں نے سب کچھ خاکستر کردیا۔سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ استغاثہ ملزموں کیخلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا لہذا ملزمان رحمت اللہ، مراد علی اور عبدالرحمن کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے ملزمان کی سزائے موت اور عمر قید سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔واضح رہے کہ ملزمان پر بلوچستان کے علاقے سبی میں 2011 میں بس پر فائرنگ اور نذر آتش کرنے کا الزام تھا جس کے نتیجے میں بارہ مسافر جاں بحق ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…