بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

قطر میں برطانوی گلوکارہ ڈینیلا کی موت کی تحقیقات جاری

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

دوحہ(این این آئی) قطر میں ایک ہوٹل کے کمرے سے معروف برطانوی گلوکارہ کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کے متعلق ایسی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ ہر سننے والا دکھی ہو جائے۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 32سالہ گلوکارہ ڈینیلا اوبینگ ’ڈیوی کا‘کے نام سے جانی جاتی تھی۔ وہ محض 6دن پہلے ہی برطانیہ سے قطر پہنچی اور اس کی لاش ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہو گئی۔

اس کے دوستوں نے بتایا ہے کہ ڈینیلا برطانوی حکومت کی سردمہری کے باعث ملک چھوڑنے اور بیرون ملک کام تلاش کرنے پر مجبور ہوئی۔ وہ برین ٹیومر کی مریض تھی اور حکومت کی طرف سے اسے مالی امداد دی جا رہی تھی لیکن کچھ عرصہ قبل حکومتی انسپکٹرز نے اسے صحت منددے دیا اور کہا کہ وہ خود کمانے کے قابل ہے جس کے بعد اس کی مالی امداد بند کر دی گئی۔اس کے بعد ڈینیلا نے برطانیہ میں کام تلاش کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد وہ قطر جانے پر مجبور ہو گئی۔ڈینیلا ایک بچے کی ماں بھی تھی۔ اس کے دوستوں نے مزید بتایا ہے کہ پہلے بھی ڈینیلا کو کئی دماغی دورے پڑ چکے تھے اور اب بھی ممکنہ طور پر اس کی موت کی وجہ اس کا برین ٹیومر ہی ہو سکتا ہے۔وہ مالی مسائل سے دوچار ہونے کے باعث شدید ذہنی دبائو کا شکار بھی ہو چکی تھی۔رپورٹ کے مطابق ڈینیلا نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے انٹرکانٹی نینٹل کے ساتھ 6ماہ کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اسے ہوٹل کے مہمانوں کے سامنے پرفارم کرنا تھا۔ اس کے ایک دوست نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر لکھا ہے کہ ’’کیا ڈینیلا کو وہ مالی امداد ملی جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس کی مالی امداد واپس نہ لی جاتی تو وہ آج ہم میں موجود ہوتی۔ میرے خیال میں طویل سفر، ذہنی دبائو اور مالی مسائل کی پریشانی اس کی موت کے اسباب ہیں۔‘‘ قطر میں ڈینیلا کی موت کی تحقیقات جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…