جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

مجھے کبھی بھی اپنے کام کی تعداد بڑھانے کا شوق نہیں رہا‘مہوش حیات

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی) معروف اداکارہ وماڈل مہوش حیات نے کہا ہے کہ بطور فنکار اگر میں چاہوں توہر آفر کو قبول کرتے ہوئے ہرفلم اورڈرامے کا حصہ بن سکتی ہوں لیکن مجھے کبھی بھی اپنے کام کی تعداد بڑھانے کا شوق نہیں رہا۔مہوش حیات نے اپنے ایک انٹرویومیں کہا کہ ایک اچھی کہانی کی ڈیمانڈ کے لیے اگرسرمایہ لگایا جائے توبری بات نہیں،

وگرنہ کم بجٹ میں بھی اچھی فلم بن سکتی ہے۔ ہالی ووڈ اوربالی ووڈ میں ایسی بے شمارمثالیں موجود ہیں۔ فلم کی کہانی، لوکیشنز اورمیوزک کے علاوہ ڈائیلاگ کا جاندارہونا اب بے حد ضروری ہو چکا ہے۔اداکارہ نے کہا کہ میں کسی اورکی نہیں بلکہ اپنی بات کرتی ہوں کہ جب بھی مجھے کوئی پروجیکٹ آفرہوتا ہے تومیں سب سے پہلے فلم کی کہانی سنتی ہوں اوراپنے کردار کا مطالعہ کرتی ہوں۔ اس کے بعد میں یہ فیصلہ کرتی ہوں کہ مجھے اس پروجیکٹ کا حصہ بننا ہے یا نہیں۔

بطور فنکاراگرمیں چاہوں توہر آفر کو قبول کرتے ہوئے ہرفلم اورڈرامے کا حصہ بن سکتی ہوں لیکن مجھے کبھی بھی اپنے کام کی تعداد بڑھانے کا شوق نہیں رہا۔مہوش حیات نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ تعداد جتنی بھی ہو بس معیاری کام کیا جائے ، تاکہ لوگ اسے یاد رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں صرف منفرد کرداروں اور اچھوتے موضوعات کی فلموں میں دکھائی دیتی ہوں۔

بلاشبہ اس وقت پاکستان میں بے شمارفلمیں پروڈیوس ہو رہی ہیں لیکن میرا فوکس صرف منفرد کام پرہی رہتا ہے جس کا مقصد ایک ہی ہے کہ ہم اچھے کام کی بدولت انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی پا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اگر دیکھا جائے تو تمام فنکاروں اور تکنیک کاروں کا یہی ٹارگٹ ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…