جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

عدالت نے 10 سال بعد دلیپ کمار کوانصاف فراہم کردیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ نے 10 سال تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد بولی وڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کو انصاف فراہم کردیا۔عدالت نے اداکار کو قریبا ڈھائی ہزاراسکوائر یارڈ کا بنگلا بلڈر قبضہ مافیا سے واپس دلوادیا۔دس سال بعد انصاف کی فراہمی اور اپنے ہی گھر کی چابیاں ملنے پر شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو نے عدالت اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔بلڈر قبضہ مافیا نے ممبئی پولیس کی موجودگی میں

سائرہ بانو کو اپنے بنگلی کی چابیاں دیں، جس کی تصویر انہوں نے ٹوئیٹ بھی کی۔دلیپ کمار کے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئیٹ کی جانے والی تصویر میں سائرہ بانو قبضہ مافیا سے حاصل ہونے والے بنگلے کی سیڑھی پر بیٹھ کر گھر کی چابیاں دکھا رہی ہیں۔ٹوئیٹ میں مداحوں، میڈیا اور عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’آج قبضہ خوروں سے گھر ملنے پر خان صاحب (دلیپ کمار) بہت خوش ہیں۔خیال رہے کہ ممبئی کے معروف علاقے سبرب بندرا پالی ہل میں موجود 2 ہزار 412 اسکوائر یارڈ کے بنگلے کی تزئین و آرائش کے لیے دلیپ کمار نے نجی کنسٹرکشن اور بلڈر کمپنی ’پراجیتا ڈویلپرز‘ کو ٹھیکہ دیا تھا۔اداکار نے بنگلے کی مرمت و تزئین و آرائش کے لیے کنسٹرکشن کمپنی کو ایڈوانس پیسے بھی دیے تھے، مگر بلڈر مافیا نے ان کے بنگلے پر قبضہ کرلیا، جس پر اداکار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔قریبا دس سال پہلے دائر کی گئی درخواست پر متعدد سماعتیں ہوئیں، جسٹس جے چیلا میسور اور جسٹس نذیر احمد پر مبنی بینچ نے کیس کی سماعتیں کرنے کے بعد معاملے کی تحقیق کے لیے ایک رکنی عدالتی کمیشن مقرر کیا تھا۔سابق جج پی ونکتراما نے بلڈر مافیا کو قصور وار اور معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا، جس کے بعد عدالت نے کنسٹرکشن کمپنی کو بنگلے کا قبضہ خالی کرکے چابیاں اداکار کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ممبئی پولیس کی موجودگی میں سائرہ بانو کو

بنگلے کی چابیاں دے دی گئیں۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…