جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اب اداکار ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں:کرینہ کپور

datetime 2  اپریل‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ممبئی(نیوز ڈیسک) بالی ووڈ کی ادا کارہ کرینہ کپور نے کہاہے کہ اب اداکار ہی نہیں رہے , ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ کرینہ کپورٹ نے کہاکہ اب تو ایسا لگتا ہے کہ اداکار اب اداکار ہی نہیں رہے بلکہ وہ اب ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آج کل کچھ زیادہ ہی پروموشن ہوتے ہیں ,فلم کےلئے ایک شہر سے دوسرے شہر کبھی اس پروگرام میں ناچنا تو کبھی اس پروگرام میں جانا۔ پہلے بھی فلمیں بنتی تھیں ان کا پروموشن بھی نہیں ہوتا تھا اور وہ فلمیں بہت چلتی تھیں تاہم آج کل جتنا چاہے پروموشن کر لو اس کے بعد بھی فلمیں نہیں چلتی ہیںاپنی بات پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ پہلے کے فنکاروں کےلئے لوگوں کے دلوں میں عزت ہوا کرتی تھی تاہم آج کل کے فنکاروں کے لیے وہ عزت ہی نہیں رہی۔ پہلے لوگ اپنے پسندیدہ اداکار یا اداکارہ کو ایک نظر دیکھنے کےلئے تڑپا کرتے تھے تاہم اب تو آرٹسٹ خود ہی اپنی باتھ روم کی تصویر سے لے کر نہ جانے کون کون سی تصاویر سوشل ویب سائٹوں پر ڈالتے ہیں۔جہاں بالی وڈ میں کام کرنے والی شادی شدہ اداکاراوں کو یہ شکایت رہتی ہیں کہ شادی کے بعد انھیں اچھے کردار ملنے قدرے مشکل ہوجاتے ہیں وہیں کرینہ کپور اسے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ میری شادی کو کافی وقت ہو گیا ہے اور میں شادی کے بعد بھی فلمیں اور آئیٹم سانگ کر رہی ہوں اور اس کا کریڈٹ میں اپنے شوہر سیف علی خان کو دینا چاہوں گی ۔انھوں نے کہا کہ اگر سیف کی رضامندی نہیں ہوتی تو میں ایسا کبھی نہیں کر پاتی۔ میری خواہش ہے کہ میرا کریئر زہرہ سہگل جیسا ہو۔ میں 80 سال کی عمر میں بھی کیمرے کے سامنے رہنا چاہتی ہوں۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ میں 16 سال کی عمر سے فلموں میں کام کر رہی ہوں اور اتنے سالوں میں میرے بہت سے دوست بنے ہیں اور اگر وہ مجھ سے اپنی فلم میں آئٹم نمبر کروانا چاہتے ہیں تو میں اپنے دوستوں کو انکار نہیں کر پاتی اس لیے کر دیتی ہوں اور ویسے بھی ایک عورت کے 100 روپ ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ صرف ایک روپ ہونا اچھا نہیں ہیں اس لیے کبھی آئٹم سانگ کرنا اچھا ہوتا ہے تو کبھی کچھ اور جو مجھے پسند ہے میں وہ کرتی ہوں۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…