منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیشن خاص طبقے تک محدود جب کہ اداکاری سب کیلئے ہوتی ہے، صائمہ اظہر

datetime 9  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) معروف ماڈل صائمہ اظہر نے کہا ہے کہ فیشن شو کے ریمپ پرکیٹ واک کرتے کرتے کب ایکٹنگ کے میدان میں اننگز کھیلنے کا موقع ملا، پتہ ہی نہ چلا۔ کیونکہ فیشن شومیں کیٹ واک کرنے والی ماڈلز کی اکثریت مجھ سے سینئرہے لیکن انھیں اس مشکل کام کے لیے منتخب نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے میں خود پربھاری ذمے داری سمجھتی ہوں۔ خاص طورپربڑی اسکرین کے لیے کام کرنا میرے نزدیک کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ان خیالات کااظہارصائمہ اظہرنے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ماڈلنگ اورایکٹنگ فنون لطیفہ کے شعبے ہی ہیں لیکن دونوں کا انداز بالکل الگ ہے۔ فیشن کا شعبہ ایک خاص طبقے تک محدود ہے جبکہ ایکٹنگ کا شعبہ زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ خاص طورپرفلم فنون لطیفہ کا سب سے مقبول میڈیم ہے اوراس سے وابستہ ہونا ہرکسی کی خواہش ہوتی ہے ، مگرانہی لوگوںکو کام کا چانس ملتا ہے جو ایکٹنگ کی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔خصوصاً فلم میں توایکٹنگ کے علاوہ رقص اور دیگر تکنیک پر مہارت ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچ رکھا تھا کہ اس طرح سے ایک دن مجھے فلم انڈسٹری کا حصہ بننے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن جونہی مجھے فلم میں مرکزی کردار میں سائن کیا گیا تومیں نے اس کے لیے خوب محنت شروع کردی۔ ایک طرف رقص کی تربیت تودوسری جانب فٹنس کے لیے ورزش اورکھانے پینے کا پرہیزبھی جاری ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ہیرو اور ہیروئن کوپسند کرنے والے اوران کے اندازکواپنانے والوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔اس لیے یہ ہماری اولین ترجیحات میں سے ایک ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملبوسات، ہیئر اسٹائل، جوتے اورجیولری کواس انداز سے استعمال میں لائیں جس کوہمارے چاہنے والے بھی اپنائیں۔ ویسے بھی ایک فنکارہزاروں، لاکھوں کا ا?ئیڈیل ہوتا ہے ، اس لیے میں ان باتوں کا خوب خیال رکھتی ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں صائمہ اظہر نے کہا کہ ایکٹنگ کے شعبے سے وابستگی کے بعد بہت سے نئے پروجیکٹس ملے ہیں۔ان میں سے کچھ ٹی وی اورکچھ سلوراسکرین کے ہیں لیکن میں اپنے فیصلے بہت سوچ سمجھ کرتی ہوں اوراسی لیے تاحال کوئی نیا پروجیکٹ سائن نہیں کیا۔ جہاں تک بات بالی ووڈ میں کام کرنے کی ہے تواچھا اورمنفرد کام جہاں سے بھی ا?فرہوگا، میں اس میں اپنی صلاحیتوں کے جوہرضروردکھاو¿ں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…