بدھ‬‮ ، 08 جولائی‬‮ 2026 

فیشن خاص طبقے تک محدود جب کہ اداکاری سب کیلئے ہوتی ہے، صائمہ اظہر

datetime 9  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) معروف ماڈل صائمہ اظہر نے کہا ہے کہ فیشن شو کے ریمپ پرکیٹ واک کرتے کرتے کب ایکٹنگ کے میدان میں اننگز کھیلنے کا موقع ملا، پتہ ہی نہ چلا۔ کیونکہ فیشن شومیں کیٹ واک کرنے والی ماڈلز کی اکثریت مجھ سے سینئرہے لیکن انھیں اس مشکل کام کے لیے منتخب نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے میں خود پربھاری ذمے داری سمجھتی ہوں۔ خاص طورپربڑی اسکرین کے لیے کام کرنا میرے نزدیک کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ان خیالات کااظہارصائمہ اظہرنے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ماڈلنگ اورایکٹنگ فنون لطیفہ کے شعبے ہی ہیں لیکن دونوں کا انداز بالکل الگ ہے۔ فیشن کا شعبہ ایک خاص طبقے تک محدود ہے جبکہ ایکٹنگ کا شعبہ زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ خاص طورپرفلم فنون لطیفہ کا سب سے مقبول میڈیم ہے اوراس سے وابستہ ہونا ہرکسی کی خواہش ہوتی ہے ، مگرانہی لوگوںکو کام کا چانس ملتا ہے جو ایکٹنگ کی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔خصوصاً فلم میں توایکٹنگ کے علاوہ رقص اور دیگر تکنیک پر مہارت ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچ رکھا تھا کہ اس طرح سے ایک دن مجھے فلم انڈسٹری کا حصہ بننے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن جونہی مجھے فلم میں مرکزی کردار میں سائن کیا گیا تومیں نے اس کے لیے خوب محنت شروع کردی۔ ایک طرف رقص کی تربیت تودوسری جانب فٹنس کے لیے ورزش اورکھانے پینے کا پرہیزبھی جاری ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ہیرو اور ہیروئن کوپسند کرنے والے اوران کے اندازکواپنانے والوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔اس لیے یہ ہماری اولین ترجیحات میں سے ایک ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملبوسات، ہیئر اسٹائل، جوتے اورجیولری کواس انداز سے استعمال میں لائیں جس کوہمارے چاہنے والے بھی اپنائیں۔ ویسے بھی ایک فنکارہزاروں، لاکھوں کا ا?ئیڈیل ہوتا ہے ، اس لیے میں ان باتوں کا خوب خیال رکھتی ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں صائمہ اظہر نے کہا کہ ایکٹنگ کے شعبے سے وابستگی کے بعد بہت سے نئے پروجیکٹس ملے ہیں۔ان میں سے کچھ ٹی وی اورکچھ سلوراسکرین کے ہیں لیکن میں اپنے فیصلے بہت سوچ سمجھ کرتی ہوں اوراسی لیے تاحال کوئی نیا پروجیکٹ سائن نہیں کیا۔ جہاں تک بات بالی ووڈ میں کام کرنے کی ہے تواچھا اورمنفرد کام جہاں سے بھی ا?فرہوگا، میں اس میں اپنی صلاحیتوں کے جوہرضروردکھاو¿ں گی۔



کالم



ووزی ناں (Vozinha)


وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…