ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کا پہلا اے آئی ڈیٹا سینٹر متعارف کرا دیا گیا

datetime 25  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈیٹا والٹ پاکستان نے کراچی میں ملک کے پہلے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹر کا باضابطہ طور پر افتتاح کر دیا جو ایک انقلابی اقدام ہے اور ملک میں اے آئی کی ترقی، نفاذ اور توسیع کے طریقے کو بدل کر رکھ دے گا۔یہ جدید ترین سہولت پاکستان کے اے آئی ایکو سسٹم کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تیار کی گئی ہے، جو اسٹارٹ اپس، محققین، کاروباری اداروں اور سرکاری اداروں کے لیے شاندار انفرااسٹرکچر فراہم کرتی ہے۔

ہائی پرفارمنس GPU کمپیوٹنگ سے لے کر محفوظ کلاڈ ماحول تک، ڈیٹا والٹ اب ملک میں ہی جدید AI جدت کی راہ ہموار کر رہا ہے وہ بھی صاف توانائی سے چلنے والے نظام اور خود مختار انفرااسٹرکچر کے ساتھ۔ڈیٹا والٹ پاکستان کی بانی اور سی ای او مہوش سلمان علی نے کہاہے کہ ہم نے صرف ایک ڈیٹا سینٹر نہیں بنایا، ہم نے پاکستان کے اے آئی مستقبل کیلئے ایک لانچ پیڈ تیار کیا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مقامی جدت پسندوں کو وہ وسائل اور اعتماد دیا جائے جس کی بنیاد پر وہ عالمی معیار کی ٹیکنالوجی تیار کر سکیں بغیر کسی غیر ملکی پلیٹ فارم پر انحصار کیے۔ یہ خود انحصاری، خودمختاری، اور پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…