جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ایکس کی بندش کو 20 دن ہوگئے، پاکستان میں کاروباری اداروں کو نقصان

datetime 8  مارچ‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس(سابق ٹوئٹر)کی بندش کو 17 فروری سے اب تک 20 دن ہوگئے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی بندش سے کاروباری اداروں کو نقصان ہو رہا ہے جب کہ صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔سوشل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام ایکس کا متبادل ثابت نہیں ہو رہے۔کراچی سے سماجی شعبے میں کام کرنے والی تنطیم سیڈ وینچرز (SEED Ventures) کی شائستہ عائشہ نے گفتگو میں کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر پوسٹیں ایکس کے ذریعے کرتے ہیں اور دوسری تنظیموں اور چندہ دینے والوں سے رابطہ کرتے ہیں تو یقینی طور پر سوشل میڈیا پر ہماری رسائی میں کمی آئی ہے اور سٹریٹجک ویزیبلٹی کا ایک طریقہ ختم ہوگیا ہے۔شائستہ کے مطابق انہوں نے ایکس کی بندش سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا۔ڈیٹا رپورٹل کے مطابق پاکستان میں تقریبا 7 کروڑ 20 لاکھ افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور ان میں سے 30 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایکس کے صارفین کی تعداد 45 لاکھ ہے جو مجموعی آبادی کا 1.9 فیصد بنتی ہے۔سوشل میڈیا ماہر ہشام سرور کا کہنا ہے کہ ایکس کی بندش کے سبب سوشل میڈیا مارکیٹنگ متاثر ہوئی ہے اور چھوٹے کاروباروں کو نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایکس کی غیرموجودگی کے سبب تشویش پیدا ہوئی ہے کیونکہ میٹا کے پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد کی تیاری میں وقت لگتا ہے۔پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ وی پی این کے ذریعے ایکس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بولو بھئی کی بانی فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ وہ بھی وی پی این استعمال کرتی ہیں کیونکہ فوری معلومات کا حصول اہم ہے۔تاہم فریحہ کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار سست کردی گئی ہے جس کی وجہ کنکٹ ہونے میں زیادہ وقت لگ رہا ہے جب کہ خیال ہے کہ حکومت وی پی این کو بلاک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…