ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں بدامنی اور اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ، ایم کیو ایم رہنما و وفاقی وزیر امین الحق نے فارمولا پیش کردیا

datetime 21  فروری‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں بدامنی اور اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ، ایم کیو ایم رہنما و وفاقی وزیر امین الحق نے فارمولا پیش کردیا۔ پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق سید امین الحق نے کہاکہ مقامی پولیس افسران کی تعیناتی،تھانوں میں انٹیلیجنس نیٹ ورکنگ اور محلہ کمیٹیوں کی تشکیل ناگزیر ہے۔ انہوںنے کہاکہ تھانیداروں کی تقرری کم از کم 3 برس کیلئے ہو،اثاثوں کی مکمل تفصیلات بھی

مرتب کی جائیں۔ انہوںنے کہاکہ غیر مقامی افسران کونہ علاقے سے آگاہی ہوتی ہے اورنہ علاقے یا شہرکے مفادات سیکوئی سروکار۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کے 100 سے زائد تھانے ہیں اور ہر تھانے کی حدود میں کم ازکم 10 سے 15 لاکھ کی آبادی کی اوسط ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اتنی بڑی آبادی میں کیا کوئی اسی علاقے سے تعلق رکھنے والا پولیس افسر تعینات نہیں ہوسکتا؟ ۔امین الحق نے کہاکہ تھانے کی حدود میں وارداتوں کا گراف بڑھے اس افسر کو معطل نہیں نوکری سے برخاست کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ انٹیلی جنس نیٹ ورک ،اسپیشل برانچ پولیس کو فعال اور محلہ کمیٹیوں کی تشکیل سے مؤثر نیٹ ورک بن سکتا۔ انہوںنے کہاکہ سرکاری کیمروں کی درستگی، ہرگلی کے انٹری ایگزٹ پررہائشی کی مدد سیسی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی جائے۔ سید امین الحق نے کہاکہ تھانوں میں نفری اور گاڑیوں کی تعداد مناسب ہو اور ان کا ریکارڈ سہ ماہی بنیادوں پر چیک بھی کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اگر فوری طور پر اس جیسے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو ملک کو کما کردینے ولا یہ شہر مکمل مفلوج ہوجائے گا۔ سید امین الحق نے کہاکہ شہر میں جرائم کی تشویشناک حد تک وارداتوں کے باوجود وزیراعلیٰ نیامن و امان سے متعلق کوئی اجلاس طلب نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…